مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 16
جب کوئی بار بار اُن کی دوکان پر جا کر ان کو دق کرے کہ فلاں چیز ابھی مجھے بنا دو تو آخر اُس کے تقاضے سے تنگ آ کر اکثر بول اُٹھتے ہیں کہ میاں میں کچھ خدا نہیں ہوں کہ صرف حکم سے کام کر دوں۔فلاں فلاں چیز ملے گی تو پھر بنا دوں گا۔غرض سب جانتے ہیں کہ صانع تام کے لئے قدرت تام اور ربوبیت شرط ہے۔یہ بات نہیں کہ جب تک زید نہ مرے بکر کے گھر لڑکا پیدا نہ ہو۔یا جب تک خالد فوت نہ ہو ولید کے قالب میں جو ابھی پیٹ میں ہے جان نہ پڑ سکے۔پس بالضرورت صغریٰ ثابت ہوا‘‘۔اور کبریٰ شکل کا یعنی یہ کہ خدا مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرتِ تامّہ کے ضروری ہے۔خود ثبوت صغریٰ سے ثابت ہوتا ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ میں قدرتِ ضروریہ تامّہ نہ ہو تو پھر قدرت اس کی بعض اتفاقی امور کے حصول پر موقوف ہوگی اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں، عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اتفاقی امور وقت پر خدا تعالیٰ کو میسر نہ ہو سکیں کیونکہ وہ اتفاقی ہیں ضروری نہیں۔حالانکہ تعلق پکڑنا روح کا جنین کے جسم سے بر وقت تیاری جسم اس کے لازم ملزوم ہے۔پس ثابت ہوا کہ فعل خدا تعالیٰ کا بطور قدرتِ تامّہ کے ضروری ہے اور نیز اس دلیل سے ضرورت قدرتِ تامہ کی خدا تعالیٰ کے لئے واجب ٹھہرتی ہے کہ بموجب اصول متقررہ فلسفہ کے ہم کو اختیار ہے کہ یہ فرض کریں کہ مثلاً ایک مدت تک تمام ارواح موجودہ ابدان متناسبہ اپنے سے متعلق رہیں۔پس جب ہم نے یہ امر فرض کیا تو یہ فرض ہمارا اس دوسرے فرض کو بھی مستلزم ہوگا کہ اب تا انقضائے اس مدت کے ان جنینوں میں جو رِحموں میں تیار ہوئے ہیں کوئی روح داخل نہیں ہوگا۔حالانکہ جنینوں کا بغیر تعلق روح کے معطل پڑے رہنا بہ بداہت عقل باطل ہے۔پس جو امر مستلزم باطل ہے وہ بھی باطل۔پس ثبوت متقدمین سے یہ نتیجہ ثابت ہو گیا کہ خدائے تعالیٰ کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔دلیل ششم قرآن مجید میں بمادہ قیاس مرکب قائم کی گئی اور قیاس مرکب کی یہ تعریف ہے کہ ایسے مقدمات سے مؤلف ہو کر اُن سے ایسا نتیجہ نکلے کہ اگرچہ وہ نتیجہ خود بذاتہٖ مطلب کو ثابت نہ کرتا ہو لیکن مطلب بذریعہ اس کے اس طور سے ثابت ہو کہ اُسی نتیجہ کو کسی اور مقدمہ کے ساتھ ملا کر ایک دوسرا قیاس بنایا جائے۔پھر خواہ نتیجہ مطلوب اسی قیاس دوم کے ذریعہ سے نکل آوے یا اور کسی قدر اسی طور سے قیاسات بنا کر مطلوب حاصل ہو۔دونوں صورتوں میں اس قیاس کو قیاس مرکب کہتے ہیں