مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 15

ہو، اس کو قدرتِ تامّہ کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔لیکن خدا کو قدرتِ تامّہ حاصل ہے کیونکہ قسم قسم کی پیدائش بنانا اور ایک بعد دوسرے کے بلاتخالف ظہور میں لانا اور کام کو ہمیشہ برابر چلانا قدرتِ تامّہ کی کامل نشانی ہے۔پس اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ کو ربوبیتِ تامّہ حاصل ہے اور درحقیقت وہ ربّ الاشیاء ہے نہ صرف بڑھئی اور معمار اشیاء کا، ورنہ ممکن نہ تھا کہ کارخانہ دنیا کا ہمیشہ بلاحرج چلتا رہتا بلکہ دنیا اور اس کے کارخانہ کا کبھی کا خاتمہ ہو جاتا کیونکہ جس کا فعل اختیارِ تام سے نہیں وہ ہمیشہ اور ہروقت اور ہر تعداد پر ہرگز قادر نہیں ہو سکتا۔اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں درج ہے بقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے کہ جس شخص کا فعل کسی وجود کے پیدا کرنے میں بطور قدرتِ تامّہ ضروری ہو اس کے لئے صفت ربوبیت تامّہ کی یعنی عدم سے ہست کرنا بھی ضروری ہے لیکن خدا کا فعل مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہے۔پس نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے لئے صفت ربوبیت تامّہ کی بھی ضروری ہے۔ثبوت صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ جس صانع کے لئے قدرت تامہ ضروری ہے اس کے لئے صفت ربوبیت تامّہ کی بھی ضروری ہے اس طرح پر کہ عقل اس بات کی ضرورت کو واجب ٹھہراتی ہے کہ جب کوئی ایسا صانع کہ جس کی نسبت ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ اس کو اپنی کسی صنعت کے بنانے میں حرج واقعہ نہیں ہوتا کسی چیز کا بنانا شروع کرے تو سب اسباب تکمیل صنعت کے اُس کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور ہر وقت اور ہر تعداد تک میسر کرنا ان چیزوں کا جو وجود مصنوع کے لئے ضروری ہیں اس کے اختیار میں ہونا چاہئے۔اور ایسا اختیار تام بجز اس صورت کے اور کسی صورت میں مکمل نہیں کہ صانع اس مصنوع کا اس کے اجزا پیدا کرنے پر قادر ہو کیونکہ ہر وقت اور ہر تعداد تک اُن چیزوں کا میسر ہوجانا کہ جن کا موجود کرنا صانع کے اختیار تام میں نہیں عندالعقل ممکن التخلّف ہے اور عدمِ تخلّف پر کوئی برہان فلسفی قائم نہیں ہوتی۔اور اگر ہوسکتی ہے تو کوئی صاحب پیش کرے۔وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مفہوم اس عبارت کا کہ فلاں امر کا کرنا زید کے اختیار تام میں نہیں، اس عبارت کے مفہوم سے مساوی ہے کہ ممکن ہے کہ کسی وقت وہ کام زید سے نہ ہو سکے۔پس ثابت ہوا کہ صانع تام کا بجز اس کے ہرگز کام نہیں چل سکتا کہ جب تک اس کی قدرت بھی تام نہ ہو۔اسی واسطے کوئی مخلوق اہلِ حرفہ میں سے اپنے حرفہ میں صانع تام ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا بلکہ ُکل اہلِ صنائع کا دستور ہے کہ