مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 323

اب میری دانست میں خفیہ طور پر آپ کا مجھ سے ذکر کرنا مناسب نہیں۔جب آپ بہرحال اشاعت پر مستعد ہیں تو محض للہ اس طریق کو منظور کریں۔ومااقول الاللّٰہ۔والسلام علی من اتبع الھدٰی خاکسار ۱۴؍مارچ ۱۸۹۱ء غلام احمد از لودھیانہ محلہ اقبال گنج مکتوب نمبر ۱۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ از عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللّٰہ وایّد بخدمت اخویم مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا تار جس میں یہ لکھا تھا کہ تمہارے وکیل بھاگ گئے ان کو لوٹاؤ یا آپ آؤ ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے، پہنچا۔اے عزیز! شکست اور فتح خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔جس کو چاہتا ہے فتح مند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے شکست دیتا ہے۔کون جانتا ہے کہ واقعی طور پر فتح مند کون ہونے والا ہے اور شکست کھانے والاکون ہے؟ جو آسمان پر قرار پا گیا ہے وہی زمین پر ہوگا گو دیرسے سہی لیکن اس عاجز کو تعجب ہے کہ آپ نے کیونکر یہ گمان کر لیا کہ حبی فی اللہ مولوی حکیم نورالدین صاحب آپ سے بھاگ کر چلے آئے۔آپ نے ان کو کب بلایا تھا کہ تا وہ آپ سے اجازت مانگ کر آتے۔اصل بات تو اس قدر تھی کہ حافظ محمد یوسف صاحب نے مولوی صاحب ممدوح کی خدمت میں خط لکھا تھا کہ مولوی عبدالرحمن اس جگہ آئے ہوئے ہیں۔ہم نے ان کو دو تین روز کے لئے ٹھہرا لیا ہے تا ان کے روبُرو ہم بعض شبہات اپنے آپ سے دور کرا لیں اور یہ بھی لکھا کہ ہم اس مجلس میں مولوی محمد حسین صاحب کو بھی بلا لیں گے۔چونکہ مولوی صاحب موصوف حافظ صاحب کے اصرار کی وجہ سے لاہور میں پہنچے اور منشی امیرالدین صاحب کے مکان پر اُترے اور اس تقریب پر حافظ صاحب نے اپنی طرف سے آپ کو بھی بلا لیا۔تب مولوی عبدالرحمن صاحب تو عین تذکرہ میں اُٹھ کر چلے گئے اور