مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 321
مکتوبات احمد ۳۲۱ مکتوب نمبر 11 نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي ا جلد اول مخدومی مکرمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آپ کا خط آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا اور اس کے پڑھنے سے مجھ کو بہت ہی افسوس ہوا کہ آپ مکالماتِ الہیہ کے امر کولہو ولعب میں داخل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اس عاجز نے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸ و ۴۹۹ میں اس ظاہری عقیدے کی پابندی سے جو مسلمانوں میں مشہور ہے، یہ عبارت لکھی ہے کہ یہ آیت کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جميع آفاق میں پھیل جائے گا ۔ چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک رکھا ہے ۔ فقط ان عبارتوں کو اس امر کے لئے دستاویز ٹھہرانا کہ براہین میں اول یہ اقرار ہے اور پھر اس کے مخالف یہ دعوئی اور ایسا خیال سرا سر غلط اور دور از حقیقت ہے۔ اے میرے عزیز دوست ! اس عاجز کے اس دعوی کی ، جو فتح اسلام میں شائع کیا گیا ہے، اپنے علم اور عقل پر بنا نہیں تا ان دونو بیانات میں بوجہ اتحاد بنا صورت تناقض پیدا ہو بلکہ براہین کی مذکورہ بالا عبارتیں تو صرف اس ظاہری عقیدے کی رو سے ہیں جو سرسری طور پر عام طور پر اس زمانہ کے مسلمان مانتے ہیں اور اس دعوی کی بنا الہام الہی اور وحی ربانی پر ہے۔ پھر تناقض کے کیا معنے ہیں ۔ میں خود یہ مانتا ہو اور تسلیم کرتا ہوں کہ جب تک خدا تعالی کسی امر پر بذریعہ اپنے خاص الہام کے مجھے آگاہ نہ کرے میں خود بخود آگاہ نہیں ہو سکتا اور یہ امر میرے لئے کچھ خاص نہیں ۔ اس کی نظیریں انبیاء کی سوانح میں بہت ہیں۔ ملہم لوگ بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے ۔ لَا عِلْمَ لِي إِلَّا مَا عَلَّمَنِي رَبِّي بلکہ خدا تعالیٰ کا سمجھانا بھی جب تک صاف طور پر نہ ہو ، انسان ضعیف البیان اس میں بھی دھوکا کھا سکتا ہے۔ فَذَهَبَ وَهُلِی کی حدیث آپ کو یاد ہی ہوگی ۔ اب خدا تعالیٰ نے فتح اسلام کی تالیف کے وقت مجھے سمجھا یا تب میں سمجھا۔ اِس سے پہلے کوئی اس بارے میں الہام نہیں ہوا کہ در حقیقت وہی مسیح آسمان سے اُتر آئے گا ۔ اگر ہے تو آپ کو پیش کرنا بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام حدیث نمبر ۳۴۲۵