مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 320

نہ علم، نہ لیاقت، غرض کچھ بھی چیز نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک امر تھا اور قطعی اور یقینی تھا، اس عاجز نے پہنچا دیا۔ماننا نہ ماننا اپنی اپنی رائے اور سمجھ پر موقوف ہے۔درحقیقت میرے لئے یہ کافی تھا کہ میں صرف الہامِ الٰہی کو ظاہر کرتا لیکن میں نے اپنے رسالوں میں قال اللّٰہ اور قال الرسول کا بیان اس لئے کچھ مختصر سا کر دیا ہے کہ شاید لوگ اس سے نفع اُٹھاویں۔مجھے اس سے کچھ بھی انکار نہیں کہ خدا تعالیٰ آئندہ کسی کو اس کی روحانی حالت کے لحاظ سے درحقیقت مسیح بنا کر دمشق کی مشرقی طرف اسی طور سے اُتار دے جیسے مسافر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا اُترتے ہیں۔کچھ تعجب نہیں کہ اس زمانے میں دجّال بھی ہو۔حضرت مہدی بھی ہوں اور پھر اسلام میں سیفی طاقت پیدا ہو جائے اور تمام لوگ مسلمان ہو جاویں مگر جو خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر کھولا ہے صرف اتنا ہے کہ یہ عاجز روحانی طور پر مثیل مسیح ہے اور روحانی طور پر موعود بھی ہے اور نیز یہ کہ کوئی مسیح آسمان سے خاکی وجود کے ساتھ اُترنے والا نہیں۔ظلّی اور مثالی طور پر مسیح کے آنے سے مجھے انکار نہیں بلکہ ایک کیا ایک ہزار مسیح بھی کہا جائے تو میرے نزدیک ممکن ہے۔میرے نزدیک احادیثِ صحیحہ بھی حقیقی طور پر مسیح کے اُترنے کے بارے میں وہ زور نہیں دیتیں جو آج کل کے علماء خیال کر رہے ہیں۔مسیح کا اُترنا سچ مگر ظلّی اور مثالی طور پر۔مولوی عبدالرحمن صاحب اپنے الہامات کے حوالہ سے اس عاجز کو ضال و مضل قرار دے چکے ہیں اور ایسا کافر کہ جس کو کبھی ہدایت نہیں ہوگی۔اور میاں عبدالحق غزنوی بھی اپنے الہام کے حوالہ سے اس عاجز کو جہنمی قرار دے چکے ہیں اور مولوی عبدالجبار صاحب فرماتے ہیں کہ جو کچھ میاں عبدالحق صاحب کے الہام ہیں، میں اُن پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ صحیح اور درست ہیں۔اب آپ کے کہنے سے وہ کیا سمجھیں گے اور آپ انہیں کیا سمجھائیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے جس طرح چاہے گا اس کی راہ پیدا کر دے گا۔اگر آپ کی ملاقات ہو تو میں خوشی سے چاہتا ہوں مگر آپ کے آنے کا کرایہ میرے ذمے رہے، میں آپ کو مالی تکلیف دینی نہیں چاہتا۔یہ بہتر ہے کہ آپ اس جگہ آجائیں۔بہرحال ملاقات کی خوشی تو اس بیماری کی حالت میں ہوگی۔ازالۃ الاوہام عنقریب طیار ہوتا ہے بھیج دوں گا ابھی کچھ باقی ہے۔والسلام غلام احمد