مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 310
خمکتوب نمبر۴ وَلَہٗ اَیْضاً بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ مخدومی مکرمی اخویم مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ میں آپ کے کسی حرف سے اتفاق نہیںکر سکتا جیساکہ بظاہر سمجھا جاتا ہے آپ بھی میری رائے سے اتفاق نہیں کرسکتے تو پھرمیری دانست میں خط و کتابت کی بات تو خاتمہ کو پہنچی۔اب میری طرف سے تو یہ تحریر و داعی اور آخری خط ہی سمجھیں۔اور آپ کو اختیار ہے کہ جس رائے پر آپ قائم ہیں اس کو اپنی طاقت قلمی سے بخوبی ظاہر کریں۔میں بجز اُس زمانہ اور وقت کے کہ حضرت مقلب القلوب اور ہادی مطلق آپ کو آپ کے قول سے رجوع دلا کر میری رائے سے متفق کرے۔آیندہ کوئی خط آپ کی طرف لکھنا نہیں چاہتا اور نہ اپنے اختیار اور مرضی سے بغیر کسی امر جدید پیش آنے کے جس کا اب مجھے علم نہیں، لکھوں گا۔ہاں، آپ کے اس خط کی نسبت جس کو میں نے عزت کے ساتھ اپنے صندوق میں رکھ لیا ہے اگر مناسب سمجھا سراجِ منیر یا کسی دوسرے رسالہ میں بغرض ازالۂِ وساوس کچھ لکھوں گا اور وہ بھی اس حالت میں کہ آپ کا یہ خط یا ایسا ہی کوئی اور مضمون آپ کے رسالہ یا کسی اور پرچہ میں شائع ہو جائے یا زبانی طور پر مختلف فرقوں میں شیوع پا جائے سو مناسب ہے کہ اب آپ بھی میری طرف خطوط بھیجنے سے مستریح رہیں اور بذریعہ تحریرات مطبوعہ اپنے بخارات نکالیں۔والسلام علی من اتبع الہدٰی خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۵؍ اکتوبر ۱۸۸۷ء ٭ ٭ الحکم ۱۷؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ۷