مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 310

مکتوبات احمد ۳۱۰ مکتوب نمبر ۴ جلد اول وَلَهُ أَيْضاً بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي اس مخدومی مکرمی اخویم مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ میں آپ کے کسی حرف سے اتفاق نہیں کر سکتا جیسا کہ بظاہر سمجھا جاتا ہے آپ بھی میری رائے سے اتفاق نہیں کر سکتے تو پھر میری دانست میں خط و کتابت کی بات تو خاتمہ کو پہنچی ۔ اب میری طرف سے تو یہ تحریر و داعی اور آخری خط ہی سمجھیں ۔ اور آپ کو اختیار ہے کہ جس رائے پر آپ قائم ہیں اس کو اپنی طاقت قلمی سے بخوبی ظاہر کریں۔ میں بجز اس زمانہ اور وقت کے کہ حضرت مقلب القلوب اور ہادی مطلق آپ کو آپ کے قول سے رجوع دلا کر میری رائے سے متفق کرے ۔ آیندہ کوئی خط آپ کی طرف لکھنا نہیں چاہتا اور نہ اپنے اختیار اور مرضی سے بغیر کسی امر جدید پیش آنے کے جس کا اب مجھے علم نہیں لکھوں گا۔ ہاں ، آپ کے اس خط کی نسبت جس کو میں نے عزت کے ساتھ اپنے صندوق میں رکھ لیا ہے اگر مناسب سمجھا سراج منیر یا کسی دوسرے رسالہ میں بغرض ازالہ وساوس کچھ لکھوں گا اور وہ بھی اس حالت میں کہ آپ کا یہ خط یا ایسا ہی کوئی اور مضمون آپ کے رسالہ یا کسی اور پرچہ میں شائع ہو جائے یا زبانی طور پر مختلف فرقوں میں شیوع پا جائے سو مناسب ہے کہ اب آپ بھی میری طرف خطوط بھیجنے سے مستریح رہیں اور بذریعہ تحریرات مطبوعہ اپنے بخارات نکالیں ۔ والسلام على من اتبع الهدى خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۱۵ اکتوبر ۱۸۸۷ء حید الحکم ۷ ارفروری ۱۹۰۴ ء صفحہ ۷