مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 302
مکتوبات احمد ۳۰۲ جلد اول کہ وہ ایک قسم کی ڈکٹیڑی چاہتے تھے فی الحقیقت وہ شکوک و شبہات میں مبتلا نہ تھا۔ وہ براہین احمد یہ کی طبع و اشاعت کے متعلق اپنے اختیارات حاکمانہ رکھنا چاہتے تھے اور براہین کی تالیف واشاعت گلیہ حضرت رب کریم کے منشاء کے تحت تھی ۔ حضرت اقدس کی اپنی ذات کو تدبیر اور انتظام میں کوئی دخل نہ تھا گو عملاً اور ظاہراً آپ کر رہے تھے مولوی محمد حسین صاحب نے نخوت و تکبر کے نشہ سے بے خود ہو کر اعتراض شروع کیا کہ کتاب کی اشاعت میں توقف کیوں ہے جو رقم آئی ہے اس کا حساب کیا ہے حضرت اقدس نے کمال رفق و ملائمت سے سمجھانا چاہا۔ مگر خوے بدرا بہانہ بسیار آخر وہ بیج عداوت اور مخالفت کا جو بویا گیا تھا۔ اس کا خار دار درخت مسیح موعود کے دعوئی کے بعد اس نے کہا اور اسی میں جو شخص خود الجھ کر ختم ہو گیا اور آج ۔۔۔ اور جس کی مخالفت میں اس نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے اور اس کے سلسلہ کا نام ونشان مٹا دینے کا متمنی تھا۔ وہ سلسلہ آج اکناف عالم میں پھیل چکا ہے اور اس کلمہ طیبہ کے درخت کی شاخیں آسمان تک جا چکی ہیں اور اس کے تازہ بتازہ ثمرات سے دنیا حیات کو پارہی ہے ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ ( عرفانی کبیر )