مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 285

مکتوبات احمد ۲۸۵ جلد اول منجانب اللہ ہیں ۔ آخر سچے مذہب کیلئے کوئی تو ما بہ الامتیاز چاہئے اور صرف معقولیت کا دعویٰ کسی مذہب کے منجانب اللہ ہونے پر دلیل نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ معقول باتیں انسان بھی بیان کر سکتا ہے اور جو خدا محض انسانی دلائل سے پیدا ہوتا ہے ۔ وہ خدا نہیں ہے بلکہ خداوہ ہے جو اپنے تئیں قوی نشانوں کے ساتھ آپ ظاہر کرتا ہے۔ وہ مذہب جو محض خدا کی طرف سے ہے اس کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونے کے نشان اور خدائی مہر اپنے ساتھ رکھتا ہوتا معلوم ہو کہ وہ خاص خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہے ۔ سو یہ مذہب اسلام ہے ۔ وہ خدا جو پوشیدہ اور نہاں در نہاں ہے اسی مذہب کے ذریعہ سے اس کا پتہ لگتا ہے اور اسی مذہب کے حقیقی پیروؤں پر وہ ظاہر ہوتا ہے جو در حقیقت سچا مذہب ہے ۔ سچے مذہب پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور خدا اس کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے کہ میں موجود ہوں ۔ جن مذاہب کی محض قصوں پر بنا ہے وہ بت پرستی سے کم نہیں ۔ ان مذاہب میں کوئی سچائی کی روح نہیں ہے اگر خدا اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اگر وہ اب بھی بولتا اور سنتا ہے جیسا کہ پہلے تھا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ اس زمانہ میں ایسا چپ ہو جائے کہ گویا موجود نہیں ۔ اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو یقیناً وہ اب سنتا بھی نہیں گویا اب کچھ بھی نہیں ۔ سوسچا وہی مذہب ہے کہ جو اس زمانہ میں بھی خدا کا سننا اور بولنا دونوں ثابت کرتا ہے ۔ غرض سچے مذہب میں خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ مخاطبہ سے اپنے وجود کی آپ خبر دیتا ہے ۔ خدا شناسی ایک نہایت مشکل کام ہے۔ دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کا کام نہیں ہے جو خدا کا پتہ لگا ویں ۔ کیونکہ زمین و آسمان کو دیکھ کر صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ترکیب محکم اور ابلغ کا کوئی صانع ہونا چاہئے ۔ مگر یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے اور ہونا چاہئے اور ہے میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے پس اس وجود کا واقعی طور پر پتہ دینے والا صرف قرآن شریف ہے جو صرف خدا شناسی کی تاکید نہیں کرتا بلکہ آپ دکھلا دیتا ہے اور کوئی کتاب آسمان کے نیچے ایسی نہیں ہے کہ اس پوشیدہ وجود کا پتہ دے۔ مذہب سے غرض کیا ہے ! بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کاملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو۔ کیونکہ در حقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرایوں میں ظاہر ہوگا۔ اور حقیقی خدا سے بے خبر رہنا اور اس سے دور رہنا اور سچی محبت اس سے نہ رکھنا درحقیقت یہی جہنم ہے جو عالم