مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 283

مسیح کی یہ علامت لکھی تھی کہ اس سے پہلے الیاس ۱ ؎ نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔پس چونکہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آیا۔اس لئے یہودی اب تک حضرت عیسیٰ کو مفتری اور مکّار کہتے ہیں۔یہ یہودیوں کی ایسی حجت ہے کہ عیسائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں اور شیطان کا مسیح کے پاس آنا یہ بھی یہودیوں کے نزدیک مجنونانہ خیال ہے۔اکثر مجانین ایسی ایسی خوابیں دیکھا کرتے ہیں۔یہ مرض کابوس کی ایک قسم ہے۔اس جگہ ایک محقق انگریز نے یہ تاویل کی ہے کہ شیطان کے آنے سے مراد یہ ہے کہ مسیح کو تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا تھا مگر مسیح شیطانی الہام سے متاثر نہیں ہوا۔ایک شیطانی الہاموں میں سے یہ تھا کہ مسیح کے دل میں شیطان کی طرف سے یہ ڈالا گیا کہ وہ خدا کوچھوڑ دے اورمحض شیطان کے تابع ہو جائے۔مگر تعجب کہ شیطان خدا کے بیٹے پر مسلّط ہواا ور دنیا کی طرف اس کو رجوع دیا۔حالانکہ وہ خدا کا بیٹا کہلاتا ہے۔اورپھر خدا ہونے کے برخلاف وہ مرتا ہے۔کیا خدا بھی مرا کرتا ہے اور اگر محض انسان مرا ہے تو پھر کیوں یہ دعویٰ ہے کہ ابن اللہ نے انسانوں کے لئے جان دی اور پھر وہ ابن اللہ کہلا کر قیامت کے وقت سے بھی بے خبر ہے۔جیسا کہ مسیح کا اقرار انجیل میں موجود ہے کہ وہ باوجود ابن اللہ ہونے کے نہیں جانتا کہ قیامت کب آوے گی۔باوجود خدا کہلانے کے قیامت کے علم سے بے خبر ہونا کس قدر بیہودہ بات ہے بلکہ قیامت تو دور ہے اس کو تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ جس درخت انجیر کی طر ف چلا اس پر کوئی پھل نہیں۔اب ہم اصل امر کی طرف رجوع کر کے مختصر طور پر بیان کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ایک وحی اگر کسی گزشتہ قصّہ یا کتاب کے مطابق آجائے یا پوری مطابق نہ ہو یا فرض کرو کہ وہ قصّہ یا وہ کتاب لوگوں کی نظر میں ایک فرضی کتاب یا فرضی قصّہ ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کی وحی پر کوئی حملہ نہیں ہوسکتا۔جن کتابوں کا نام عیسائی لوگ تاریخی کتابیں رکھتے یا آسمانی وحی کہتے ہیں۔یہ تمام بے بنیاد باتیں ہیں ۱؎ اس زمانہ میں یہودی لوگ الیاس نبی کے دنیا میں دوبارہ آنے اور آسمان سے اُترنے کے ایسے ہی منتظر تھے جیسے کہ آجکل ہمارے سادہ طبع مولوی حضرت عیسیٰ کے آسمان سے اترنے کے منتظر ہیں۔مگر حضرت عیسیٰ کو ملاکی نبی کی اس پیشگوئی کی تاویل کرنی پڑی۔اسی وجہ سے یہودی اب تک ان کو سچا نبی نہیں جانتے کہ الیاس آسمان سے نہیں اترا۔اس عقیدہ کی وجہ سے یہودی تو واصل جہنم ہوئے۔اب اسی طمع خام میں مسلمان گرفتار ہیں۔یہ سراسر یہودیوں کا رنگ ہے۔خیر اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہو گئی۔