مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 280

پھر تعلیم کا یہ حال ہے کہ قطع نظرا س سے کہ اس پرچوری کا الزام لگایا گیا ہے۔انسانی قویٰ کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ حلم اور درگذر پر انجیل کی تعلیم زور دیتی ہے اورباقی شاخوں کا خون کیاہے حالانکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ انسان کو قدرت قادر نے عطا کیا ہے۔کوئی چیز اس میں سے بیکار نہیں ہے اورہرایک انسانی قوت اپنی اپنی جگہ پر عین مصلحت سے پید ا کی گئی ہے اور جیسے کسی وقت اور کسی محل پر حلم اور درگذر عمدہ اخلاق میں سے سمجھے جاتے ہیں۔ایسا ہی کسی وقت غیرت اور انتقام اور مجرم کو سزا دینا اخلاقِ فاضلہ میں سے شمار کیا جاتا ہے۔نہ ہمیشہ درگذر اور عفو قرینِ مصلحت ہے اور نہ ہمیشہ سزااور انتقام مصلحت کے مطابق ہے۔یہی قرآنی تعلیم ہے۔جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی بدی کی جزا اسی قدر ہے جس قدر بدی کی گئی۔مگر جو کوئی عفو کر ے اور اس عفو میں کوئی اصلاح مقصود ہو۔۲؎ تو اس کا اجر خداکے پاس ہے۔یہ تو قرآن شریف کی تعلیم ہے۔مگر انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عفو اور درگذر کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو، جن پر تمام سلسلہ تمدن کا چل رہا ہے، پامال کر دیا ہے اور انسانی قویٰ کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے اور باقی شاخوں کی رعایت قطعاً ترک کر دی گئی ہے۔پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بد دعا کی۔اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اورہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیںاور بُرے بُرے ان کے نام رکھے۔اخلاقی معلّم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاقِ کریمہ دکھلاوے۔پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوںنے آپ بھی عمل نہ کیا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتا۔بلکہ کبھی تو عفو اور درگذر کی تعلیم دیتا ۱؎ الشوریٰ: ۴۱ ۲؎ قرآن شریف نے بے فائدہ عفو اور درگذر کو جائز نہیں رکھا۔کیونکہ اس سے انسانی اخلاق بگڑتے ہیں اور شیرازہ نظام درہم برہم ہو جاتا ہے بلکہ اس عفو کی اجازت دی ہے جس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔منہ