مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 279
ماں کے پیٹ سے پید اہو کر اور بالغ ہوکر پھر یہ چاہے کہ ماں کے پیٹ میں داخل ہو جائے اور وہی نطفہ بن جائے جو پہلے تھا مجھے تعجب ہے کہ عیسائیوں کو کس بات پر ناز ہے اگر اُن کا خدا ہے تو وہ وہی ہے جو مدت ہوئی کہ مرگیا اور سری نگر محلہ خانیار کشمیر میں اس کی قبر ہے اور اگر اس کے معجزات ہیں تو وہ دوسرے نبیوں سے بڑھ کر نہیں ہیں۔بلکہ الیاس نبی کے معجزات اس سے بہت زیادہ ہیں اور بموجب بیان یہودیوں کے اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔محض فریب اور مکر ۱ ؎ تھا اور پیشگوئیوں کا یہ حال ہے جو اکثر جھوٹی نکلی ہیں۔کیا باراں۱۲ حواریوں کو وعدہ کے موافق باراں۱۲ تخت بہشت میں نصیب ہو گئے؟ کوئی پادری صاحب تو جواب دیں۔کیا دنیا کی بادشاہت حضرت عیسیٰ کو ان کی اپنی پیشگوئی کے موافق مل گئی؟ جس کے لئے ہتھیار بھی خریدے گئے تھے۔کوئی تو بولے۔اور کیا اسی زمانہ میں حضرت مسیح اپنے دعویٰ کے موافق آسمان سے اُتر آئے؟ میں کہتا ہوں اُترنا کیا ان کو تو آسمان پر جانا ہی نصیب نہیں ہوا۔یہی رائے یورپ کے محقق علماء کی بھی ہے۔بلکہ وہ صلیب پر سے نیم مُردہ ہو کر بچ گئے اور پھر پوشیدہ طور پر بھاگ کر ہندوستان کی راہ سے کشمیر میں پہنچے اور وہیں فوت ہوئے۔۲؎ ۱؎ یہودیوں کے اس بیان کی خود حضرت مسیح کے قول میں تائید پائی جاتی ہے۔کیونکہ حضرت مسیح انجیل میں فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے حرام کار مجھ سے نشان مانگتے ہیں۔ان کو کوئی نشان نہیں دکھلایا جائے گا۔پس ظاہر ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ نے کوئی معجزہ یہودیوں کو دکھلایا ہوتا تو ضرور وہ یہودیوں کی اس درخواست کے وقت ان معجزات کا حوالہ دیتے۔منہ ۲؎ جو لوگ مسلمان کہلا کر حضرت عیسیٰ کو مع جسم عنصری آسمان پر پہنچاتے ہیں وہ قرآن شریف کے برخلاف ایک لغوبات منہ پر لاتے ہیں۔قرآن شریف تو آیت ۱؎ میں حضرت عیسیٰ کی موت ظاہر کرتا ہے اورآیت۲؎ میں انسان کا مع جسم عنصری آسمان پر جانا ممتنع قرار دیتا ہے۔پھر یہ کیسی جہالت ہے کہ کلام الٰہی کے مخالف عقیدہ رکھتے ہیں۔توفّٰی کے یہ معنی کرنا کہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے جانا۔اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہ ہو گی۔اوّل تو کسی کتاب لغت میں توفّٰی کے یہ معنی نہیں لکھے کہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھایا جانا۔پھر ماسوا اس کے جبکہ آیت قیامت کے متعلق ہے۔یعنی قیامت کو حضرت عیسیٰ خد ا تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ قیامت تو آجائے گی مگر حضرت عیسیٰ نہیں مریں گے اور مرنے سے پہلے ہی مع جسم عنصری خدا کے سامنے پیش ہو جائیں گے۔قرآن شریف کی یہ تحریف کرنا یہودیوں سے بڑھ کر قدم ہے۔منہ ۱؎ المائدۃ : ۱۱۸ ۲؎ بنی اسرآئیل : ۹۴