مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 276
گوتم بدھ کی ہے اور اوّل سنسکرت میں تھی اور پھر دوسری زبانوں میں ترجمے ہوئے۔چنانچہ بعض محقق انگریز بھی اس بات کے قائل ہیں۔مگر اس بات کے ماننے سے انجیل کا کچھ باقی نہیں رہتا اور نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ اپنی تمام تعلیم میں چور ثابت ہوتے ہیں۔کتاب موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسیٰ کی یہ انجیل ہے۔جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی اور ہم نے بہت سے دلائل سے اس بات کو ثابت بھی کر دیا ہے کہ یہ درحقیقت حضرت عیسیٰ کی انجیل ہے اور دوسری انجیلوں سے زیادہ پاک و صاف ہے۔مگر وہ بعض محقق انگریز جو اس کتاب کو بدھ کی کتاب ٹھہراتے ہیں وہ اپنے پائوں پر آپ تبر مارتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سارق قرار دیتے ہیں۔اب یہ بھی یاد رہے کہ پادریوں کا مذہبی کتابوں کا ذخیرہ ایک ایسا ردّی ذخیرہ ہے۔جو نہایت قابل شرم ہے۔وہ لوگ صرف اپنی ہی اٹکل سے بعض کتابوں کو آسمانی ٹھہراتے ہیں اور بعض کو جعلی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ ان کے نزدیک یہ چار انجیلیں اصلی ہیں اورباقی اناجیل جو چھپن ۵۶کے قریب ہیں، جعلی ہیں۔مگر محض گمان اور شک کی رُو سے نہ کسی مستحکم دلیل پر اس خیال کی بنا ہے۔چونکہ مروجہ انجیلوں اور دوسری انجیلوں میں بہت تناقض ہے اس لئے اپنے گھر میں ہی یہ فیصلہ کر لیا ہے اورمحققین کی یہی رائے ہے کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ انجیلیں جعلی ہیں یا وہ جعلی ہیں۔اسی لئے شاہ ایڈورڈ قیصر کی تخت نشینی کی تقریب پر لندن کے پادریوں نے وہ تمام کتابیں جن کو یہ لوگ جعلی تصور کرتے ہیں ان چار انجیلوں کے ساتھ ایک ہی جلد میں مجلّد کر کے مبارک باد ی کے طو رپر بطور نذر پیش کی تھیں اور اس مجموعہ کی ایک جلد ہمارے پاس بھی ہے۔پس غور کا مقام ہے کہ اگر درحقیقت وہ کتابیں گندی اور جعلی اور ناپاک ہوتیں تو پھر پاک اور ناپاک دونوں کو ایک جلد میں مجلّد کرنا کس قدر گناہ کی بات تھی۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دلی اطمینان سے نہ کسی کتاب کو جعلی کہہ سکتے ہیں نہ اصلی ٹھہرا سکتے ہیں۔اپنی اپنی رائیں ہیں اور سخت تعصب کی وجہ سے وہ انجیلیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں ان کو یہ لوگ جعلی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ برنباس کی انجیل جس میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیشگوئی ہے۔وہ اسی وجہ سے جعلی قرار دی گئی ہے کہ اس میں کھلے کھلے طور پر آنحضرتؐ کی پیشگوئی موجود ہے۔چنانچہ سیل صاحب نے اپنی تفسیر میں اس قصہ کو بھی لکھا ہے کہ ایک عیسائی راہب اسی انجیل کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا۔غرض یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ یہ لوگ جس کتاب کی