مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 277
نسبت کہتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا جھوٹا قصہ ہے۔ایسی باتیں صرف دو خیال سے ہوتی ہیں (۱) ایک یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب اناجیل مروّجہ کے مخالف ہوتی ہے۔(۲) دوسری یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب قرآن شریف سے کسی قدر مطابق ہوتی ہے اور بعض شریر اور سیاہ دل انسان ایسی کوشش کرتے ہیں کہ اوّل اصول ۱؎ مسلّمہ کے طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جعلی کتابیں ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں ان کا قصہ درج ہے اور اس طرح پر نادان لوگوں کو دھوکہ میں ڈالتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے نوشتوں کا جعلی یا اصلی ثابت کر نا بجز خدا کی وحی کے اور کسی کا کام نہ تھا۔پس خدا کی وحی کا جس کسی قصہ سے توارد ہوا وہ سچا ہے۔گو بعض نادان انسان اس کوجھوٹا قصہ قرار دیتے ہیں۔اور جس واقعہ کی خد اکی وحی نے تکذیب کی وہ جھوٹا ہے اگرچہ بعض انسان اس کو سچا قرار دیتے ہوں۔اور قرآن شریف کی نسبت یہ گمان کرنا کہ ان مشہور قصوں یا افسانوں یا کتبوں یا اناجیل سے بنایا گیا ہے۔نہایت قابلِ شرم جہالت ہے۔کیا ممکن نہیں کہ خدا کی کتاب کا کسی گزشتہ مضمون سے توارد ہو جائے۔چنانچہ ہندوئوں کے وید جو اس زمانہ میں مخفی تھے۔ان کی کئی سچائیاں قرآن شریف میں پائی جاتی ہیں۔پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وید بھی پڑھا تھا۔اناجیل وغیرہ کا ذخیرہ جو چھاپہ خانہ کے ذریعہ سے اب ملا ہے۔عرب میں ان کو کوئی جانتا بھی نہیں تھااور عرب کے لوگ محض اُمِّی تھے اور اگراس ملک میں شاذو نادر کے طور پر کوئی عیسائی بھی تھا وہ بھی اپنے مذہب کی کوئی وسیع واقفیت نہیں رکھتا۲؎ تھا۔تو پھر یہ الزام کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرقہ کے طور پر ان کتابوں سے وہ مضمون لئے تھے ایک لعنتی خیال ہے۔آنحضرت محض اُمی تھے۔آپ عربی بھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔چہ جائیکہ یونانی یا عبرانی۔یہ بارِ ثبوت ہمارے مخالفوں کے ذمہ ہے کہ اس زمانہ کی کوئی پرانی کتاب پیش کریں جس سے مطالب اخذ کئے گئے۔اگر فرضِ محال کے طور پر قرآن کریم میں سرقہ کے ذریعہ سے کوئی مضمون ہوتا تو عرب کے عیسائی لوگ جو اسلام کے سخت دشمن تھے۔فی الفور شور مچاتے کہ ہم سے سن کر ایسا مضمون لکھا ہے۔۱؎ عیسائی مذہب میں دین کی حمایت کیلئے ہر قسم کا افترا کرنا اور جھوٹ جائز بلکہ موجب ثواب ہے۔دیکھو پولوس کا قول۔منہ ۲؎ پادری فنڈل صاحب نے اپنی کتاب میزان الحق میں اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ عرب کے عیسائی بھی وحشیوں کی طرح تھے اور بے خبر تھے۔منہ