مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 267

مکتوبات احمد ۲۶۷ مکتوب نمبر ۱۳ ڈوئی کے نام دوسر اکھلا خط جلد اول زمین جب گناہ اور شرک سے آلودہ ہو جاتی ہے اور اس حقیقت سے بے خبر ہو جاتی ہے جو انسان کی پیدائش کی اصل غرض ہے ۔ تب خدا کی رحمت تقاضا کرتی ہے کہ ایک کامل الفطرت انسان کو اپنی ذات سے پاک تعلق بخش کر اور اپنے مکالمہ سے اُس کو مشرف کر کے اور اپنی محبت میں اُس کو انتہا تک پہنچا کر اُس کے ذریعہ سے دوبارہ زمین کو پاک وصاف کرے۔ انسان خدا تو نہیں ہو سکتا مگر بڑے بڑے تعلقات اس سے پیدا کر لیتا ہے۔ جب وہ بالکل خدا کیلئے ہو جاتا ہے اور اپنے تئیں صاف کرتا کرتا ایک مصفا آئینہ کی طرح بن جاتا ہے ۔ تب اس آئینہ میں عکسی طور پر خدا کا چہرہ نمودار ہوتا ہے اُس صورت میں وہ بشری اور خدائی صفات میں ایک مشترک چیز بن جاتا ہے اور بھی اس سے صفات الہیہ صادر ہوتی ہیں کیونکہ اس کے آئینہ وجود میں خدا کا چہرہ منعکس ہے اور کبھی اُس سے بشری صفات صادر ہوتی ہیں کیونکہ وہ بشر ہے اور ایسے انسانوں کو دیکھنے والے کبھی دھوکا کھا کر اور صرف ایک پہلو کا کرشمہ دیکھ کر ان کو خدا سمجھنے لگتے ہیں۔ اور دنیا میں مخلوق پرستی اسی وجہ سے آئی ہے اور صد ہا انسان اسی دھوکا سے خدا بنائے گئے ہیں ۔ مگر ہمارے اس زمانہ میں جس قد ر عیسائیوں کا وہ فرقہ جو حضرت مسیح کو خدا جانتا ہے اس دھوکا میں مبتلا ہے اس قدر کوئی اور قوم مبتلا نہیں ۔ مسیح سے صدہا برس پہلے جو لوگ خدا بنائے گئے تھے جیسے راجہ رام چندر، راجہ کرشن ، گوتم بدھ ۔ ہمارے اس زمانہ میں ان کے پیر و متنبہ ہوتے جاتے ہیں کہ یہ ان کی غلطیاں تھیں ۔ مگر افسوس حضرت مسیح کے پیرو اب تک اس زمانہ میں بھی خواہ نخواہ خدائی کا خطاب ان کو دے رہے ہیں ۔ اگر چہ اس خیال کا بطلان ایسا بد یہی تھا کہ کسی دلیل کی ضرورت نہ تھی ۔ مگر افسوس کہ عیسائی ابھی تک اس زمانہ کی ہوا سے بھی دور بیٹھے ہیں بلکہ بعض لوگوں نے جب دیکھا کہ ایسے لغو خیالات کا زمانہ ہی دن بدن مخالف ہوتا جاتا ہے تو انہوں نے اپنے معمولی طریقوں سے مایوس ہو کر یہ ایک نیا طریق اختیار کیا کہ کوئی ان میں سے الیاس بن گیا اور کسی نے یہ دعوی کر دیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں اور میں ہی خدا ہوں ۔ اس مجمل