مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 263
مکتوبات احمد ۲۶۳ جلد اول لوگ سلب امراض کے مدعی ہیں اور سچ بات یہ ہے کہ اس طریق کو حق اور باطل کے فیصلہ کرنے کیلئے کوئی دخل نہیں کیونکہ اہل حق اور اہل باطل دونوں اس میں دخل پیدا کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ انجیلوں سے بھی ثابت ہے کہ جب حضرت عیسی اس طریق توجہ سے بعض امراض کو اچھا کرتے تھے تو ان کی زندگی میں ہی ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ ان کے مرید اور حواری نہ تھے مگر اسی طرح امراض کو اچھا کر رلیتے لیتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کر لیتے تھے اور اس وقت ایک تالاب بھی ایسا تھا جس میں غوطہ لگا کر اکثر امراض اچھی ہو جاتی تھیں ۔ سو یہ مشق توجہ اور سلب امراض کی جو عام طور پر قوموں کے اندر پائی جاتی ہے یہ سچے مذہب کیلئے کامل شہادت نہیں ٹھہر سکتی ۔ ہاں ! اس صورت میں کامل شہادت ٹھہر سکتی ہے کہ دو فریق جو اپنے اپنے مذہب کی سچائی کے مدعی ہیں وہ چند بیمار مثلاً ہمیں بیمار قرعہ اندازی سے باہم تقسیم کر لیں اور پھر ان دونوں میں سے جس کے بیمار فریق مقابل سے بہت زیادہ اچھے ہو جائیں ، اس کو حق پر سمجھا جائے گا ۔ چنانچہ گزشتہ دنوں میں ایسا ہی میں نے اس ملک میں اشتہار دیا تھا مگر کسی نے اس کا مقابلہ نہ کیا۔ مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ڈوئی یا اور کوئی ڈوئی کا ہم جنس اس مقابلہ کیلئے میرے مقابل آئے تو میرا خدا اس کو سخت ذلیل کرے گا، کیونکہ وہ جھوٹا ہے اور اس کا خدا بھی محض باطل کا پتلا ہے ۔ لیکن افسوس ! کہ اس قدر دوری میں یہ مقابلہ میسر نہیں آ سکتا ۔ مگر خوشی کی بات ہے کہ ڈوئی نے خود یہ طریق فیصلہ پیش کیا ہے کہ مسلمان جھوٹے ہیں اور ہلاک ہو جائیں گے۔ اس طریق فیصلہ میں ہم اس قدر ترمیم کرتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں ۔ اس طرح پر تو ی قدر ترمیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کونشانہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ پر تو قدر کی ۔ ڈوئی کے ہاتھ میں مکار لوگوں کی طرح یہ عذر باقی رہ جائے گا کہ مسلمان ہلاک نہ ہوں گے مگر پچاس یہ یا ساٹھ یا سو برس کے بعد ۔ اتنے میں ڈوئی خود مر جائے گا تو کوئی اس کی قبر پر جا کر اس کو ملزم کرے گا کہ تیری پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ پس اگر ڈوٹی کی سیدھی نیت ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ سبق در حقیقت مریم کے صاحبزادہ نے ہی اس کو دیا ہے جو اس کے نزدیک خدا ہے تو یہ ٹھگوں والا طریق اس کو اختیار نہیں کرنا چاہئے کہ اس سے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا ۔ بلکہ طریق یہ ہے کہ وہ اپنے مصنوعی خدا سے اجازت لے کر میرے ساتھ اس بارے میں مقابلہ کرے۔ میں ایک آدمی ہوں جو پیرانہ سالی تک پہنچ چکا ہوں ۔ میری عمر غالباً چھیاسٹھ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے اور ذیا بیطس اور اسہال کی بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں اور دورانِ سر اور کمی دوران خون کی بیماری بدن کے اوپر کے حصہ میں ہے ۔اور میں