مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 9
فریق ثانی بلکہ دنیا کا اصول ہے اور اثبات قضیہ ثانیہ یعنی مفہوم کبریٰ کا اس طرح پر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ باوصف واحد اور قہار ہونے کے وجود ماسوائے اپنے کا خالق نہ ہو بلکہ وجود تمام موجودات کا مثل اس کے قدیم سے چلا آتا ہو تو اس صورت میں وہ واحد اور قہار بھی نہیں ہو سکتا۔واحد اس باعث سے نہیں ہو سکتا کہ وحدانیت کے معنی سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ شرکت غیر سے بکلّی پاک ہو اور جب خدا تعالیٰ خالق ارواح نہ ہو تو اس سے دو طور کا شرک لازم آیا۔اوّل یہ کہ سب ارواح غیر مخلوق ہوکر مثل اس کے قدیم الوجود ہوگئے۔دوم یہ کہ ان کے لئے بھی مثل پروردگار کے ہستی حقیقی ماننی پڑے۔جو مستفاض عن الغیر نہیں۔پس اسی کا نام شرکت بالغیر ہے اور شرک بالغیر ذاتِ باری کا بہ بداہت عقل باطل ہے۔کیونکہ اس سے شریک الباری پیدا ہوتا ہے اور شریک الباری ممتنع اور محال ہے۔پس جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہے اور قہار اِس باعث سے نہیں ہو سکتا کہ صفت قہاری کے یہ معنی ہیں کہ دوسروں کو اپنے ماتحت میں کر لینا اور اُن پر قابض اور متصرف ہو جانا۔سو غیر مخلوق اور روحوں کو خدا اپنے ماتحت نہیں کر سکتا کیونکہ جو چیزیں اپنی ذات میں قدیم اور غیر مصنوع ہیں وہ بالضرورت اپنی ذات میں واجب الوجود ہیں۔اس لئے کہ اپنے تحقیق وجود میں دوسری کسی علّت کے محتاج نہیں اور اسی کا نام واجب ہے جس کو فارسی میں خدا یعنی خود آئندہ کہتے ہیں۔پس جب ارواح مثل ذات باری تعالیٰ کے خدا اور واجب الوجود ٹھہرے تو اُن کا باری تعالیٰ کے ماتحت رہنا عندالعقل محال اور ممتنع ہوا کیونکہ ایک واجب الوجود دوسرے واجب الوجود کے ماتحت نہیں ہو سکتا۔اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے۔لیکن حال واقعہ جو مسلم فریقین ہے، یہ ہے کہ سب ارواح خدا تعالیٰ کے ماتحت ہیں، کوئی اُس کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں۔پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ سب حادث اور مخلوق ہیں کوئی ان میں سے خدا اور واجب الوجود نہیں اور یہی مطلب تھا۔دلیل دوم جو اِنّیہے۔یعنی معلول سے علّت کی طرف دلیل لی گئی ہے دیکھو سورۃ الفرقان جزو۱۸۔یعنی اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں، وہ سب کا خالق ہے اور اُس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر ایک چیز کو ایک اندازہ مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جن سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی۔بلکہ اُسی اندازہ میں