مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 8

بخدمت پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کہ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم پانچ منٹ میں جواب دے سکتے ہیں یہ گزارش ہے کہ اب اپنی اُس استعداد علمی کو روبروئے فضلائِ نامدارِ ملّت مسیحی و برہمو سماج کے دکھلاویں اور جو جو کمالات اُن کی ذات سامی میں پوشیدہ ہیں منصہ ظہور میں لاویں۔ور نہ عوام کالانعام کے سامنے دَم زنی کرنا صرف لاف گزاف ہے۔اس سے زیادہ نہیں۔اب میں ذیل میں مضمون موعودہ لکھتا ہوں۔مضمون ابطال تناسخ و مقابلہ فلسفہ وید و قرآن جس کے طلب جواب میں صاحبان فضلاء آریہ سماج یعنی پنڈت کھڑک سنگھ صاحب، سوامی پنڈت دیانند صاحب، جناب باوا نرائن سنگھ صاحب، جناب منشی کنہیا لال صاحب، جناب منشی بختاورسنگھ صاحب ایڈیٹر آریہ درپن، جناب بابو ساردا پرشاد صاحب، جناب منشی شرم پت صاحب سیکرٹری آریہ سماج قادیان، جناب منشی اندر من صاحب مخاطب ہیں بوعدہ انعام پانسو روپیہ۔آریہ صاحبان کا پہلا اصول جو مدار تناسخ ہے یہ ہے کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور سب ارواح مثل پرمیشور کے قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پرمیشور ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ اصول غلط ہے اور اس پر تناسخ کی ٹپڑی جمانا بنیاد فاسد پر فاسد ہے۔قرآن مجید کہ جس پر تمام تحقیق اسلام کی مبنی ہے اور جس کے دلائل کو پیش کرنا بغرض مطالبہ دلائل وید اور مقابلہ باہمی فلسفہ مندرجہ وید اور قرآن ہم وعدہ کر چکے ہیں، ضرورت خالقیت باری تعالیٰ کو دلائل قطعیہ سے ثابت کرتا ہے۔چنانچہ وہ دلائل بہ تفصیل ذیل ہیں۔دلیل اوّل جو برہان لمی ہے۔یعنی علّت سے معلول کی طرف دلیل گئی ہے۔دیکھو سورہ رعد الجزو۱۳۔۱؎ یعنی خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے اور واحد بھی ایسا کہ قہار ہے یعنی سب چیزوں کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور ان پر غالب ہے۔یہ دلیل بذریعہ شکل اوّل کے جو بدیہی الانتاج ہے اس طرح پر قائم ہوتی ہے کہ صغریٰ اس کا یہ ہے جو خدا واحد اور قہار ہے اور کبریٰ یہ کہ ہر ایک جو واحد اور قہار ہو وہ تمام موجودات ماسوائے اپنے کا، خالق ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جو خدا تمام مخلوقات کا خالق ہے۔اثبات قضیہ اُولیٰ یعنی صغریٰ کا اس طور سے ہے کہ واحد اور قہار ہونا خدا تعالیٰ کا اصول مسئلہ