مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 248

ساتھ سمجھ سکیں مگر یہ میں خیال کرتا ہوں آپ دیکھ لیں گے ایسی بات نہیں ہے جیسا کہ ایک ایسے مباحثہ میں شامل ہونا جس کا مسلم نتیجہ یہ ہو کہ جو لوگ اس مباحثہ میں شریک ہوں وہ اس مذہب کو اختیار کر لیں جس کے خدا کی طرف سے ہونے کا دعویٰ اس وقت قطعی طور پر ثابت ہو جائے میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ کسی وقت بھی کسی مباحثہ میں اس شرط پر شامل ہو سکوں اگرچہ یہ چٹھی چھپی ہوئی نہیں مگر آپ کو پورا اختیار ہے کہ اس کو چھاپ لیں یا ایسی طرح پر استعمال کریں جیسا کہ آپ پسندیدہ سمجھیں۔میں خیال کرتا ہوں کہ میرا معاملہ مسلمان شرفا کے ساتھ ہے اور اس لئے اگر یہ چٹھی چھاپی جائے گی تو ساری کی ساری اور بغیر کسی تبدیلی کے چھاپی جائے گی۔(آپ کا تابعدار دستخط جی۔اے۔لاہور) اس کے جواب میں مسلمانوں کی کمیٹی نے مفصلہ ذیل چٹھی بشپ کو لکھی کہ وہ اپنے فیصلہ پر زیادہ غور کرے۔یہ چٹھی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی لکھوائی تھی۔قادیان مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۰ء جناب من! آپ کا جواب جس میں آپ نے مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کے ساتھ ایک پسندیدہ مباحثہ میں شامل ہونے سے انکار کیا کمیٹی کو سنایا گیا جنہوں نے اس پر بہت اظہار افسوس کیا۔جو انکار کے دلائل آپ پیش کرتے ہیں وہ صرف بعض غلط فہمیوں اور غلطیوں کا نتیجہ ہیں اور مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ ان کی مفصل تردید ایک رسالہ کی صورت میں لکھوں جو عنقریب شائع کیا جائے گا اگر آپ کی طرف سے اس درخواست کا جواب ایسا ہی مایوسی دینے والا ہوا جیسا کہ پہلی چٹھی کا مگر اس رسالہ کو چھپوانے سے پہلے یہ مناسب خیال کیا گیا ہے کہ آپ کو ایسے مباحثہ کی ضرورت کی طرف مزید توجہ دلائی جائے جس کے کثرت سے مسلمان خواہاں ہیں کیا مسلمان اور کیا عیسائی دونوں قومیں مباحثہ کی تجویز کی منظوری کو دیکھنا چاہتی تھیں اور بہت سے اینگلوانڈین اخبارات نے صرف اس میں دلچسپی ہی ظاہر نہیں کی بلکہ صاف صاف اپنی رائے بھی ظاہر کی کہ یہ مباحثہ کی تجویز خواہ کسی پہلو سے اس پر نظر کی جائے یعنی مجوز مباحثین کی بڑی شہرت علمی فضیلت اور وسیع اثر کے لحاظ سے چیلنج دینے والی کمیٹی کی عمومیت کے لحاظ سے مباحثہ میں جو سوال پیش ہونے والے تھے ان کے لحاظ سے شرائط مباحثہ کے اعلیٰ درجہ کے منصفانہ ہونے کے لحاظ سے اور اس مفید نتیجہ کے لحاظ سے جس کی امید