مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 238
لگانے یا اپنے ہمسایہ کا مال چرانے سے رُک گیا ہے تو کیا اس کی یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ اس شرارت سے باز رہ کر اس سے نیکی کرنا چاہتا تھا بلکہ قانون سزا بھی تو اُسے ڈرا رہا تھا کیونکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر میں نقب زنی کے وقت یا کسی کے گھر میں آگ لگانے کے وقت یا کسی بے گناہ پر پستول چھوڑنے کے وقت یا کسی بچے کا گلا گھوٹنے کے وقت پکڑا گیا تو پھر گورنمنٹ پوری سزا دے کر جہنم تک پہنچائے گی۔غرض اگر یہی حقیقی نیکی اور انسان کا اعلیٰ جوہر ہے تو پھر تمام جرائم پیشہ ایسے لوگوں کے محسن ٹھہر جائیں گے جن کو انہوں نے کوئی ضرر نہیں پہنچایا۔لیکن جن بزرگواروں کو ہم انسان کامل کا خطاب دینا چاہتے ہیں کیا ان کی بزرگی کے اثبات کیلئے ہمیں بھی وجوہ پیش کرنے چاہئیں کہ کبھی انہوں نے کسی شخص کے گھر کو آگ نہیں لگائی، چوری نہیں کی، کسی بیگانہ عورت پر حملہ نہیں کیا، ڈاکہ نہیں مارا، کسی بچے کا گلا نہیں گھونٹا۔حاشاوکلا، یہ کمینہ باتیں ہرگز کمال کی وجوہ نہیں ہو سکتیں بلکہ ایسے ذکر سے تو ایک طور سے ہجو نکلتی ہے۔مثلاً اگر میں یہ کہوں کہ میری دانست میں زید جو ایک شہر کا معزز اور نیک نام رئیس ہے، فلاں ڈاکہ میں شریک نہیں ہے یا فلاں عورت کو جو چند آدمی زنا کے لئے بہلا کرلے گئے تھے، اس سازش سے زید کا کچھ تعلق نہ تھا۔تو ایسے بیان میں مَیں زید کی ایک طریق سے ازالہ حیثیت عرفی کر رہا ہوں کیونکہ پوشیدہ طور پر پبلک کو احتمال کا موقع دیتا ہوں کہ وہ اس مادہ کا آدمی ہے، گو اس وقت شریک نہیں ہے۔پس خدا کے نبیوں کی تعریف اسی حد تک ختم کر دینا بلاشبہ ان کی ایک سخت مذمت ہے اور اسی بات کو ان کا بڑا کمال سمجھنا کہ جرائم پیشہ لوگوں کی طرح ناجائز تکالیف عامہ سے انہوں نے اپنے تئیں بچایا، ان کے مرتبہ عالیہ کی بڑی ہتک ہے۔اوّل تو بدی سے باز رہنا جس کومعصومیت کہا جاتا ہے کوئی اعلیٰ صفت نہیں ہے۔دنیا میں ہزاروں اس قسم کے لوگ موجود ہیں کہ ان کو موقع نہیں ملا کہ وہ نقب لگائیں یادھاڑا ماریں یا خون کریں یا شیر خوار بچوں کا گلا گھونٹیں یا بیچاری کمزور عورتوں کا زیور کانوں سے توڑ کر لے جائیں۔پس ہم کہاں تک اس ترکِ شر کی وجہ سے لوگوں کو اپنے محسن ٹھہراتے جائیں اور ان کو محض اسی وجہ سے انسان کامل مان لیں؟ ماسوائے اس کے ترکِ شر کے لئے، جس کو دوسرے لفظوں میں معصومیت کہتے ہیں، بہت سی وجوہ ہیں۔ہر ایک کو یہ لیاقت کب حاصل ہے کہ رات کو اکیلا اُٹھے اور حربہ نقب ہاتھ میں لے کر اور لنگوٹی باندھ کر کسی کوچے میں گھس جائے اور عین موقع پر نقب لگا دے اور مال قابو میں کرے اور پھر جان