مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 237
کے نزدیک ہر ایک ذرّہ کو اپنے وجود کا آپ ہی خدا جاننا اور اپنی پیاری بیوی کو باوجود اپنی موجودگی کے کسی دوسرے سے ہم بستر کرا دینا کچھ بھی گناہ کی بات نہیں۔اور سناتن دھرم والوں کے نزدیک راجہ رام چندر اور کرشن کو اوتار جاننا اور پرمشیر ماننا اور پتھروں کے آگے سجدہ کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں۔اور ایک گبر کے نزدیک آگ کی پوجا کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں۔اور ایک فرقہ یہودیوں کے مذہب کے موافق غیر قوموں کے مال کی چوری کر لینا اور ان کو نقصان پہنچا دینا کچھ گناہ کی بات نہیں۔اور بجز مسلمانوں کے سب کے نزدیک سُود لینا کچھ گناہ کی بات نہیں تو اب ایسا کون فارغ جج ہے کہ ان جھگڑوں کا فیصلہ کرے؟ اس لئے حق کے طالب کیلئے افضل اور اعلیٰ نبی کی شناخت کے لئے یہی طریق کھلا ہے جو میں نے بیان کیا ہے اور اگر ہم فرض بھی کر لیں تو تمام قومیں معصومیت کی وجوہ ایک ہی طور سے بیان کرتی ہیں یعنی اس بیان میں اگر تمام مذہبوں والے متفق بھی ہوں کہ فلاں فلاں امر گناہ میں داخل ہے جس سے باز رہنے کی حالت میں انسان معصوم کہلا سکتا ہے تو گو ایسا فرض کرنا غیر ممکن ہے تا ہم محض اس امر کی تحقیق ہونے سے کہ ایک شخص شراب نہیں پیتا، رہزنی نہیں کرتا، ڈاکہ نہیں مارتا، خون نہیں کرتا، جھوٹی گواہی نہیں دیتا۔ایسا شخص صرف اس قسم کی معصومیت کی وجہ سے انسان کامل ہونے کا ہرگز مستحق نہیں ہو سکتا اور نہ کسی حقیقی اور اعلیٰ نیکی کا مالک ٹھہر سکتا ہے۔مثلاً اگر کوئی کسی کو اپنا یہ احسان جتلائے کہ باوجودیکہ میں نے کئی دفعہ یہ موقع پایا کہ تیرے گھر کو آگ لگا دوں اور تیرے شیرخوار بچے کا گلا گھونٹ دوں مگر پھر بھی میں نے آگ نہیں لگائی اور نہ تیرے بچے کا گلا گھونٹا۔تو ظاہر ہے کہ عقلمندوں کے نزدیک یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں سمجھی جائے گی اور نہ ایسے حقوق اور فضائل کو پیش کرنے والا بھلا مانس انسان خیال کیا جائے گا۔ورنہ ایک حجام اگر یہ احسان جتلا کر ہمیں ممنون بنانا چاہے کہ بالوںکے کاٹنے یا درست کرنے کے وقت مجھے یہ موقع ملا تھا کہ میںتمہارے سر یا گردن یا ناک پر استرہ مار دیتا مگر میں نے یہ نیکی کی کہ نہیں مارا۔تو کیا اس سے وہ ہمارا اعلیٰ درجہ کا محسن ٹھہر جائے گا اور والدین کے حقوق کی طرح اس کے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں گے؟ نہیں، بلکہ وہ ایک طور کے جرم کا مرتکب ہے جو اپنی ایسی صفات ظاہر کرتا ہے اور ایک دانشمند حاکم کے نزدیک ضمانت لینے کے لائق ہے۔غرض یہ کوئی اعلیٰ درجہ کا احسان نہیں ہے کہ کسی نے بدی کرنے سے اپنے تئیں بچائے رکھا کیونکہ قانون سزا بھی تو اُسے روکتا تھا۔مثلاً اگر کوئی شریر نقب