مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 222
بے شک خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کے جتلانے کے لئے مومنوں کو انواع اقسام کی نعمتوں کے وعدے دیئے ہیں۔مگر مومنوں کو جو اعلیٰ مقام کے خواہش مند ہیں یہی تعلیم دی ہے کہ وہ محبتِ ذاتی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کریں۔لیکن انجیل میں تو صاف شہادتیں موجود ہیں کہ آپ کے یسوع صاحب کے حواری لالچی اور کم عقل تھے۔پس جیسے ان کی عقلیں اور ہمتیں تھیں ایسی ہی ان کو ہدایت بھی ملی۔اور ایسا ہی یسوع بھی ان کو مل گیا۔جس نے اپنی خودکشی کا دھوکا دے کر سادہ لوحوں کو عبادت کرنے سے روک دیا۔اگر کہو کہ انجیل نے یہ سکھلا کر کہ خدا کو باپ کہو محبتِ ذاتی کی طرف اشارہ کیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا خیال سراسر غلط ہے کیونکہ انجیلوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے خدا کے بیٹے کا لفظ دو طور سے استعمال کیا ہے۔(۱) اوّل تو یہ کہ مسیح کے وقت میں یہ قدیم رسم تھی۔کہ جو شخص رحم اور نیکی کے کام کرتا۔اور لوگوں سے مروّت اور احسان سے پیش آتا تو وہ واشگاف کہتا۔کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔اور اس لفظ سے اس کی یہ نیت ہوتی تھی کہ جیسے خدا نیکوں اور بدوں دونوں پر رحم کرتا ہے۔اور اس کے آفتاب اور ماہتاب اور بارش سے تمام بُرے بھلے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایسا ہی عام طور پر نیکی کرنا میری عادت ہے۔لیکن فرق اس قدر ہے کہ خدا تو ان کاموں میں بڑا ہے۔اور میں چھوٹا ہوں۔سو انجیل نے بھی اس لحاظ سے خدا کو باپ ٹھہرایا کہ وہ بڑا ہے اور دوسروں کو بیٹا ٹھہرایا یہ نیت کرکے کہ وہ چھوٹے ہیں۔مگر اصل امر میں خدا سے مساوی کیا یعنی کمیت میں کمی بیشی کو مان لیا مگر کیفیت میں باپ بیٹا ایک رہے۔اور یہ ایک مخفی شرک تھا۔اس لئے کامل کتاب یعنی قرآن شریف نے اس طرح کی بول چال کو جائز نہیں رکھا۔یہودیوں میں جو ناقص حالت میں تھے جائز تھا اور انہیں کی تقلید سے یسوع نے اپنی باتوں میں بیان کردیا۔چنانچہ انجیل کے اکثر مقامات میں اسی قسم کے اشارے پائے جاتے ہیں کہ خدا کی طرح رحم کرو۔خدا کی طرح دشمنوں سے بھی ایسی ہی بھلائی کرو جیسا کہ دوستوں سے تب تم خدا کے فرزند کہلائو گے کیونکہ اس کے کام سے تمہارا کام مشابہ ہوگا۔صرف اتنا فرق رہا کہ وہ بڑا بمنزلہ باپ خدا اور تم چھوٹے بمنزلہ بیٹے کے ٹھہرے۔سو یہ تعلیم درحقیقت یہودیوں کی کتابوں سے لی گئی تھی اس لئے یہودیوں کا اب تک یہ اعتراض ہے کہ یہ چوری اور سرقہ ہے۔بائبل سے چرا کر یہ باتیں انجیل میں لکھ دیں۔بہرحال یہ تعلیم ایک تو ناقص ہے اور