مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 223

دوسرے اس طرح کا بیٹا محبت ذاتی سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔(۲) دوسری قسم کے بیٹے کا انجیل میں ایک بے ہودہ بیان ہے جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۴ میں ہے۔یعنی اس ورس میں بیٹا تو ایک طرف ہریک کو خواہ کیسا ہی بدمعاش ہو خدا بنادیا ہے۔اور دلیل یہ پیش کی ہے۔کہ نوشتوں کا باطل ہونا ممکن نہیں۔غرض انجیل نے شخصی تقلید سے اپنی قوم کا ایک مشہور لفظ لے لیا۔علاوہ اس کے یہ بات خود غلط ہے کہ خدا کو باپ قرار دیا جاوے اور اس سے زیادہ تر نادان اور بے ادب کون ہوگا کہ باپ کا لفظ خدا تعالیٰ پر اطلاق کرے۔چنانچہ ہم اس بحث کو بفضلہ تعالیٰ کتاب منن الرحمن میں بتفصیل بیان کرچکے ہیں۔اس سے آپ پر ثابت ہوگا کہ خدا تعالیٰ پر باپ کا لفظ اطلاق کرنا نہایت گندہ اور ناپاک طریق ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے سمجھانے کے لئے یہ تو کہا کہ خدا تعالیٰ کو ایسی محبت سے یاد کرو جیسا کہ باپوں کو یاد کرتے ہو۔مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کو باپ سمجھ لو۔اور انجیل میں ایک اور نقص یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم کسی جگہ نہیں دی کہ عبادت کرنے کے وقت اعلیٰ طریق عبادت یہی ہے کہ اغراض نفسانیہ کو درمیان سے اٹھا دیا جاوے بلکہ اگر کچھ سکھلایا تو صرف روٹی مانگنے کے لئے دعا سکھلائی قرآن شریف نے تو ہمیں یہ دعا سکھلائی کہ   ۱؎ یعنی ہمیں اس راہ پر قائم کر جو نبیوں اور صدیقوں کی اور عاشقانِ الٰہی کی راہ ہے۔مگر انجیل یہ سکھلاتی ہے کہ ہماری روزینہ کی روٹی آج ہمیں بخش۔ہم نے تمام انجیل پڑھ کر دیکھی اس میں اعلیٰ تعلیم کا نام و نشان نہیں ہے۔اعتراض پنجم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صاحب کی ایک غیر عورت پر نظر پڑی۔تو آپ نے گھر میں آکر اپنی بیوی سودہؓ سے خلوت کی۔پس جو شخص غیر عورت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہیں آسکتا۔جب تک اپنی عورت سے خلوت نہ کرے اور اپنے نفس کی حرص کو پورا نہ کرے تو وہ فرد اکمل کیونکر ہوسکتا ہے؟ اقول میں کہتا ہوں کہ جس حدیث کے معترض نے اُلٹے معنے سمجھ لئے ہیں وہ صحیح مسلم میں ہے۔اور اس کے الفاظ یہ ہیں۔عَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَی اِمْرَاَۃً فَاَتٰی ۱؎ الفاتحہ: ۶۔۷