مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 221

دل میں محبت ذات باری تعالیٰ کی پیدا ہو جاتی ہے اور اغراضِ نفسانیہ کارائحہ اور بقیہ بالکل دور ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ محبتِ ذاتی کا اصل اور منبع دو ہی چیزیں ہیں (۱) اوّل کثرت سے مطالعہ کسی کے حسن کا اور اس کے نقوش اور خال و خط اور شمائل کو ہر وقت ذہن میں رکھنا اور بار بار اس کا تصوّر کرنا۔(۲)دوسرے کثرت سے تصور کسی کے متواتر احسانات کا کرنا اس کے انواع و اقسام کی مروّتوں اور احسانوں کو ذہن میں لاتے رہنا اور ان احسانوں کی عظمت اپنے دل میں بٹھانا۔(منہ) ۱؎ البقرۃ: ۲۰۱ ۲؎ النحل: ۹ سے بھر جاتا ہے جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے  ۱؎ یعنی بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضائِ الٰہی کے عوض میں بیچ٭ دیتے ہیں اور خدا ایسوں ہی پر مہربان ہے۔اور پھر فرمایاٌ ۲؎ یعنے وہ لوگ نجات یافتہ ہیں۔جو خدا کو اپنا وجود حوالہ کر دیں اور اس کی نعمتوں کے تصور سے اس طور سے اس کی عبادت کریں کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہیں۔سو ایسے لوگ خدا کے پاس سے اجر پاتے ہیں۔اور نہ ان کو کچھ خوف ہے اور نہ وہ کچھ غم کرتے ہیں۔یعنی ان کا مدّعا خدا اور خدا کی محبت ہوجاتی ہے اور خدا کے پاس کی نعمتیں ان کا اجر ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ فرمایا ۔ ۳؎ یعنی مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو روٹی کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس روٹی کھلانے سے تم سے کوئی بدلہ اور شکرگذاری نہیں چاہتے اور نہ ہماری کچھ غرض ہے۔ان تمام خدمات سے صرف خدا کا چہرہ ہمارا مطلب ہے۔اب سوچنا چاہئے کہ ان تمام آیات سے کس قدر صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف نے اعلیٰ طبقہ عبادتِ الٰہی اور اعمالِ صالحہ کا یہی رکھا ہے کہ محبتِ الٰہی اور رضائِ الٰہی کی طلب سچے دل سے ظہور میں آوے۔مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمدہ تعلیم جو نہایت صفائی سے بیان کی گئی ہے انجیل میں بھی موجود ہے۔ہم ہریک کو یقین دلاتے ہیں کہ اس صفائی اور تفصیل سے انجیل نے ہرگز بیان نہیں کیا۔خدا تعالیٰ نے تو اس دین کا نام اسلام اس غرض سے رکھا ہے کہ تاانسان خدا تعالیٰ کی عبادت نفسانی اغراض سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے کرے۔کیونکہ اسلام تمام اغراض کے چھوڑ دینے کے بعد رضا بقضا کا نام ہے۔دنیا میں بجز اسلام ایسا کوئی مذہب نہیں۔جس کے یہ مقاصد ہوں۔۱؎ البقرۃ: ۲۰۸ ۲؎ البقرۃ: ۱۱۳ ۳؎ الدھر: ۹،۱۰ ٭ نفس کے بیچنے میں یہ بات داخل ہے کہ انسان اپنی زندگی اور اپنے آرام کو جلالِ الٰہی کے ظاہر کرنے اور دین کی خدمت میں وقف کر دیوے۔منہ