مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 220
اور یقینی ہوتی ہے کہ وہ ایسے محسن کی عبادت کرنے کے وقت اس کو غائب نہیں سمجھتا بلکہ یقینا اس کو حاضر خیال کرکے اس کی عبادت کرتا ہے اور اس عبادت کا نام قرآن شریف میں احسان ہے۔اور صحیح بخاری اور مسلم میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔اور اس درجہ کے بعد ایک اور درجہ ہے جس کا نام ہے۔٭ اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب انسان ایک مدت تک احساناتِ الٰہی کو بلا شرکت اسباب دیکھتا رہے اور اس کو حاضر اور بلاواسطہ محسن سمجھ کر اس کی عبادت کرتا رہے تو اس تصوّر اور تخیل کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ذاتی محبت اس کو جنابِ الٰہی کی نسبت پیدا ہو جائے گی کیونکہ متواتر احسانات کا دائمی ملاحظہ بالضرورت شخص ممنون کے دل میں یہ اثر پیدا کرتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ اس شخص کی ذاتی محبت سے بھر جاتا ہے جس کے غیر محدود احسانات اس پر محیط ہوگئے۔پس اس صورت میں وہ صرف احسانات کے تصوّر سے اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ اس کی ذاتی محبت اس کے دل میں بیٹھ جاتی ہے۔جیسا کہ بچہ کو ایک ذاتی محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے۔پس اس مرتبہ پر وہ عبادت کے وقت صرف خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہی نہیں بلکہ دیکھ کر سچے عشاق کی طرح لذّت بھی اُٹھاتا ہے اور تمام اغراض نفسانی معدوم ہوکر ذاتی محبت اس کی اندر پیدا ہوجاتی ہے اور یہ وہ مرتبہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔۔۱؎ غرض آیت ۲؎ کی یہ تفسیر ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے تینوں مرتبے انسانی معرفت کے بیان کر دیئے اور تیسرے مرتبہ کو محبت ذاتی کا مرتبہ قرار دیا اور یہ وہ مرتبہ ہے جس میں تمام اغراضِ نفسانی جَل جاتے ہیں اور ٭ مرتبہ ایتایِٔ ذیِ القُربٰی متواتر احسانات کے ملاحظہ سے پیدا ہوتا ہے۔اور اس مرتبہ میں کامل طور پر عابد کے دل میں محبت ذات باری تعالیٰ کی پیدا ہو جاتی ہے اور اغراضِ نفسانیہ کارائحہ اور بقیہ بالکل دور ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ محبتِ ذاتی کا اصل اور منبع دو ہی چیزیں ہیں (۱) اوّل کثرت سے مطالعہ کسی کے حسن کا اور اس کے نقوش اور خال و خط اور شمائل کو ہر وقت ذہن میں رکھنا اور بار بار اس کا تصوّر کرنا۔(۲)دوسرے کثرت سے تصور کسی کے متواتر احسانات کا کرنا اس کے انواع و اقسام کی مروّتوں اور احسانوں کو ذہن میں لاتے رہنا اور ان احسانوں کی عظمت اپنے دل میں بٹھانا۔(منہ) ۱؎ البقرۃ: ۲۰۱ ۲؎ النحل: ۹