مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 219
ہے۔اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے درحقیقت تین قسم پر منقسم ہیں۔اوّل وہ لوگ جو بباعث محجوبیت اور رؤیت اسباب کے احسان الٰہی کا اچھی طرح ملاحظہ نہیں کرتے اور نہ وہ جوش ان میں پیدا ہوتا ہے جو احسان کی عظمتوں پر نظر ڈال کر پیدا ہوا کرتا ہے اور نہ وہ محبت ان میں حرکت کرتی ہے جو محسن کی عنایاتِ عظیمہ کا تصور کر کے جنبش میں آیا کرتی ہے بلکہ صرف ایک اجمالی نظر سے خدا تعالیٰ کے حقوق خالقیت وغیرہ کو تسلیم کرلیتے ہیں اور احسانِ الٰہی کی ان تفصیلات کو جن پر ایک باریک نظر ڈالنا اس حقیقی محسن کو نظر کے سامنے لے آتا ہے ہرگز مشاہدہ نہیں کرتے کیونکہ اسباب پرستی کا گردوغبار مسبّب حقیقی کا پورا چہرہ دیکھنے سے روک دیتا ہے۔اس لئے ان کو وہ صاف نظر میسر نہیں آتی۔جس سے کامل طور پر معطی حقیقی کا جمال مشاہدہ کرسکتے۔سو ان کی ناقص معرفت رعایت اسباب کی کدورت سے ملی ہوئی ہوتی ہے اور بوجہ اس کے جو وہ خدا کے احسانات کو اچھی طرح دیکھ نہیں سکتے۔خود بھی اس کی طرف وہ التفات نہیں کرتے جو احسانات کے مشاہدہ کے وقت کرنی پڑتی ہے جس سے محسن کی شکل نظر کے سامنے آجاتی ہے بلکہ ان کی معرفت ایک دھندلی سی ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ وہ کچھ تو اپنی محنتوں اور اپنے اسباب پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کچھ تکلّف کے طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا کا حق خالقیت اور رزّاقیت ہمارے سر پر واجب ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کی وسعتِ فہم سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اس لئے ان سے جب تک کہ وہ اس حالت میں ہیں، یہی چاہتا ہے کہ اس کے حقوق کا شکر ادا کریں اور آیتمیں عدل سے مراد یہی اطاعت برعایت عدل ہے مگر اس سے بڑھ کر ایک اور مرتبہ انسان کی معرفت کا ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں۔انسان کی نظر رؤیت اسباب سے بالکل پاک اور منزہ ہوکر خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ہاتھ کو دیکھ لیتی ہے اور اس مرتبہ پر انسان اسباب کے حجابوں سے بالکل باہر آجاتا ہے اور یہ مقولہ کہ مثلاً میری اپنی ہی آبپاشی سے میری کھیتی ہوئی اور یا میرے اپنے ہی بازو سے یہ کامیابی مجھے ہوئی یا زید کی مہربانی سے فلاں مطلب میرا پورا ہوا اور بکر کی خبر گیری سے میں تباہی سے بچ گیا۔یہ تمام باتیں ہیچ اور باطل معلوم ہونے لگتی ہیں اور ایک ہی ہستی اور ایک ہی قدرت اور ایک ہی محسن اور ایک ہی ہاتھ نظر آتا ہے۔تب انسان ایک صاف نظر سے جس کے ساتھ ایک ذرہ شرک فی الاسباب کی گردوغبار نہیں۔خدا تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھتا ہے۔اور یہ رؤیت اس قسم کی صاف