مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 208
مکتوبات احمد ۲۰۸ جلد اول دی ۔ انجیل نے ہرگز اس بات پر زور نہیں دیا کہ گناہ ہلاک کرنے والا زہر ہے۔ اس کے عوض اپنے اندر کوئی تریاق پیدا کرو۔ بلکہ اس محرف انجیل نے نیکیوں کا عوض یسوع کی خودکشی کو کافی سمجھ لیا ہے ۔ مگر یہ کیسی بے ہودہ اور بھول کی بات ہے کہ حقیقی نیکی کے حاصل کرنے کی طرف توجہ نہیں بلکہ انجیل کی یہی تعلیم ہے کہ عیسائی بنو اور جو چاہو کرو ۔ کفارہ ناقص ذریعہ نہیں ہے تاکسی عمل کی حاجت ہو۔ اب دیکھو اس سے زیادہ بدی پھیلنے کا ذریعہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنے تئیں پاک نہ کرو۔ اس پاک گھر میں داخل نہ ہو گے۔ اور انجیل کہتی ہے کہ ہر یک بدکاری کر تیرے لئے یسوع کی خودکشی کافی ہے۔ اب کس نے گناہ کو ہلکا سمجھا ؟ قرآن نے یا انجیل نے؟ قرآن کا خدا ہر گز کسی کو نیک نہیں ٹھیرا تا جب تک بدی کی جگہ نیکی نہ آ جائے مگر انجیل نے اندھیر مچادیا ہے۔ کفارہ سے تمام نیکی اور راستبازی کے حکموں کو ہلکا اور بیچ کر دیا۔ اور اب عیسائی کے لئے ان کی ضرورت نہیں ۔ حیف صد حیف ۔ افسوس صد افسوس ۔ دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ بہشت کی تعلیم محض نفسانی ہے جس سے ایک خدا رسیدہ شخص کو کچھ تسلی نہیں ہو سکتی ۔ اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ یہ بات نہایت بدیہی اور عند العقل مسلّم اور قرین انصاف ہے کہ جیسا کہ انسان دنیا میں ارتکاب جرائم یا کسب خیرات اور اعمالِ صالحہ کے وقت صرف روح سے ہی کوئی کام نہیں کرتا بلکہ روح اور جسم دونوں سے کرتا ہے ۔ ایسا ہی جزا اور سزا کا اثر بھی دونوں پر ہی ہونا چاہئے ۔ یعنی جان اور جسم دونوں کو اپنی اپنی حالت کے مناسب پاداش اُخروی سے حصہ ملنا کوا چاہئے۔ لیکن عیسائی صاحبوں پر سخت تعجب ہے کہ سزا کی حالت میں تو اس اصول کو انہوں نے قبول کر لیا ہے۔ اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے بدکاریاں اور بے ایمانیاں کر کے خدا کو ناراض کیا ان کو جو سزا دی جائے گی وہ صرف روح تک محدود نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور گندھک کی آگ سے جسم جلائے جائیں گے اور وہاں رونا اور دانت پینا ہوگا ۔ اور وہ پیاس سے جلیں گے اور ان کو پانی نہیں ملے گا۔ اور جب حضرات عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ جسم کیوں آگ میں جلایا جائے گا۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھائی روح اور جسم دونوں مزدور کی طرح دنیا میں کام کرتے تھے ۔ پس جبکہ دونوں نے اپنے آقا کے کام میں مل کر خیانت کی ۔ تو وہ دونوں سزا کے لائق ٹھہرے ۔ پس اے اندھو اور خدا کے نوشتوں پر غور کرنے میں غافلو! تمہیں تمہاری ہی بات سے