مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 205

اور بے حیائی اس حد تک پہنچ گئی کہ شیرینیوں اور ولایت کی مٹھائیوں پر بھی یہ لفظ لکھے جاتے ہیں کہ اے میری پیاری! ذرا مجھے بوسہ دے۔یہ تمام گناہ کس کی گردن پر ہے۔بے شک اس یسوع کی گردن پر جس نے ایسی تعلیم دی کہ ایک جوان مرد یا عورت دوسرے پر نظر ڈالے مگر زنا کا قصد نہ کرے۔اے نادان! کیا زنا کا قصد اختیار میں ہے۔جو شخص آزادی سے نامحرم عورتوں کو دیکھتا رہے گا آخر ایک دن بدنیتی سے بھی دیکھے گا۔کیونکہ نفس کے جذبات ہریک طبیعت کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اور تجربہ بلند آواز سے بلکہ چیخیں مار کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ بیگانہ عورتوں کو دیکھنے میں ہرگز انجام بخیر نہیں ہوتا۔یورپ جو زنا کاری سے بھر گیا۔اس کا کیا سبب ہے۔یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہوگیا۔اوّل تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہوگیا پھر اس سے ترقی ہوکر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی یہاں تک کہ استاد جوان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جاکر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں اور کوئی منع نہیں کرتا۔شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے۔اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوںکو۔نہ منہ کو۔یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔کاش! ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا۔تا یہ بدکاریاں ظہور میں نہ آتیں۔اس شخص نے پارسائی اور تقویٰ کا خون کردیا اور اور الحاد اور اباحت کو تمام ملک میں پھیلا دیا۔کوئی عبادت نہیں، کوئی مجاہدہ نہیں بجز کھانے پینے اور بدنظریوں کے اور کوئی بھی فکر نہیں۔پھر زہر پر زہر یہ کہ ایک جھوٹے کفارہ کی امید دے کر گناہوں پر دلیر کر دیا۔کون عقلمند اس بات کو باور کرے گا کہ زید کو مسہل دیا جائے اور بکر کے زہریلے مواد اس سے نکل جائیں۔بدی حقیقی طور پر تبھی دور ہوتی ہے کہ جب نیکی اس کی جگہ لے لے۔یہی قرآنی تعلیم ہے کسی کی خودکشی سے دوسرے کو کیا فائدہ۔کس قدر یہ نادانی کا خیال اور قانون قدیم کے مخالف ہے۔جو آپ کے یسوع صاحب سے ظہور میں آیا۔کیا اس کے روٹی کھانے سے حواریوں کا پیٹ بھر جاتا تھا۔پھر کیونکر اس کی خودکشی دوسرے کو مفید ہوسکتی ہے۔انجیل کی ساری تعلیم ایسی گندی اور ناقص ہے کہ حرف حرف پر سخت اعتراض ہے۔اور اس کے مؤلّف کو خبر ہی نہیں کہ تقویٰ کس کو کہتے ہیں۔اور گناہ کے باریک مراتب