مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 174
اور ایسے وقت میں آیا جس وقت میں اس کے آنے کی ضرورت تھی۔یوں تو یہ مسئلہ بہت ہی صاف تھا کہ خدا کیا ہے اور اس کی صفات کیسی ہونی چاہئیں مگر چونکہ اب عیسائی صاحبوں کو یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا اور معقولی اور منقولی بحثوں نے اس ملک ہندوستان میں کچھ ایسا ان کو فائدہ نہیں بخشا، اس لئے ضرور ہوا کہ اب طرز بحث بدل لی جائے۔سو میری دانست میں اس سے اَنسب طریق اور کوئی نہیں کہ ایک روحانی مقابلہ مباہلہ کے طور پر کیا جائے اور وہ یہ کہ اوّل اسی طرح ہر چھ دن تک مباحثہ ہو، جس مباحثہ کو میرے دوست قبول کر چکے ہیں اور پھر ساتویں دن مباہلہ ہو اور فریقین مباہلہ میں یہ دعا کریں۔مثلاً فریق عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسیٰ مسیح ناصری جس پر میں ایمان لاتا ہوں، وہی خدا ہے اور قرآن انسان کا افترا ہے، خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل ہو جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے اور ایسا ہی یہ عاجز دعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا! میں جانتا ہوں کہ درحقیقت عیسیٰ مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے۔خدا ہرگز نہیں اور قرآن کریم تیری پاک کتاب اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تیرا پیارا اور برگزیدہ رسول ہے، اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل کر جس سے میری رُسوائی ظاہرہو جائے اور اے خدا! میری رسوائی کیلئے یہ بات کافی ہوگی کہ ایک برس کے اندر تیری طرف سے میری تائید میں کوئی ایسا نشان ظاہر نہ ہو جس کے مقابلہ سے تمام مخالف عاجز رہیں۔اور واجب ہوگا کہ فریقین کے دستخط سے یہ تحریر چند اخبارات میں شائع ہو جائے کہ جو شخص ایک سال کے اندر مورد غضب الٰہی ثابت ہو جائے اور یا یہ کہ ایک فریق کی تائید میں کچھ ایسے نشان آسمانی ظاہر ہوں کہ دوسرے فریق کی تائید میں ظاہر و ثابت نہ ہو سکیں تو ایسی صورت میں فریق مغلوب یا توفریق غالب کا مذہب اختیار کرے اور یا اپنی کل جائیداد کا نصف حصہ اس مذہب کی تائید کیلئے فریق غالب کو دے دے جس کی سچائی ثابت ہو۔٭ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ٭ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ۶۹ ،۷۰)