مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 173

مکتوب نمبر۶ رجسٹرڈ خط جو ۲۵؍ اپریل کو پادری صاحب کے ۲۴؍ اپریل کے خط کے جواب میں بھیجا گیا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مشفق مہربان پادری صاحب سلامت۔بعد مَاوَجب۔میں نے آپ کی چٹھی کو اوّل سے آخر تک سُنا۔میں اُن تمام شرائط کو منظور کرتا ہوں جن پر آپ کے اور میرے دوستوں کے دستخط ہو چکے ہیں لیکن سب سے پہلے یہ بات تصفیہ پا جانی چاہئے کہ اس مباحثہ اور مقابلہ سے علّتِ غائی کیا ہے؟ کیا یہ انہیں معمولی مباحثات کی طرح ایک مباحثہ ہوگا جو سالہائے دراز سے عیسائیوں اور مسلمانوں میں پنجاب اور ہندوستان میں ہو رہے ہیں؟ جن کا ماحصل یہ ہے کہ مسلمان تو اپنے خیال میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے عیسائیوں کو ہر ایک بات میں شکست دی ہے اور عیسائی اپنے گھر میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ مسلمان لاجواب ہوگئے ہیں۔اگر اسی قدر ہے تو یہ بالکل بے فائدہ اور تحصیل حاصل ہے اور بجز اس بات کے اس کا آخری نتیجہ کچھ نظر نہیں آتا کہ چند روز بحث مباحثہ کا شور و غوغا ہو کر پھر ہر یک فضول گو کو اپنی ہی طرف کا غلبہ ثابت کرنے کیلئے باتیں بنانے کا موقعہ ملتا رہے۔مگر میں یہ چاہتا ہوں کہ حق کھل جائے اور ایک دنیا کو سچائی نظر آ جائے۔اگر فی الحقیقت حضرت مسیح علیہ السلام خدا ہی ہیں اور وہی ربّ العالمین اور خالق السموات والارض ہے تو بیشک ہم لوگ کافر کیا اَکفر ہیں اور بیشک اس صورت میں دین اسلام حق پر نہیں ہے۔لیکن اگر حضرت مسیح علیہ السلام صرف ایک بندہ، خدا تعالیٰ کا نبی اور مخلوقیت کی تمام کمزوریاں اپنے اندر رکھتا ہے تو پھر یہ عیسائی صاحبوں کا ظلم عظیم اور کفر کبیر ہے کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنا رہے ہیں اور اس حالت میں قرآن کے کلام اللہ ہونے میںاِس سے بڑھ کر اور کوئی عمدہ دلیل نہیں کہ اُس نے نابود شدہ توحید کو پھر قائم کیا اور جو اصلاح ایک سچی کتاب کو کرنی چاہئے تھی وہ کر دکھائی