مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 172
(۱۳) دوسرا زمانہ بھی چھ دن کاہوگا یعنی مئی ۲۹ سے جون ۳ تک (اگر اس قدر ضرورت ہوئی) اس زمانہ میں مسٹر عبداللہ آتھم خان صاحب کو اختیار ہوگا کہ اپنے سوالات بہ تفصیل ذیل پیش کریں۔(الف) رحم بلا مبادلہ (ب) جبر اور قدر (ج) ایمان بالجبر (د) قرآن کے خدائی کلام ہونے کا ثبوت (س) اس بات کا ثبوت کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) رسول اللہ ہیں۔وہ اور سوال بھی کر سکتے ہیں بشرطیکہ چھ دن سے زیادہ نہ ہو جائے۔(۱۴) ٹکٹ ۱۵ مئی تک جاری ہو جانے چاہئیں۔وہ ٹکٹ مفصلہ ذیل نمونہ کے ہوں گے۔(۱۵)عیسائیوں اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خان صاحب کی طرف سے یہ قواعد واجب الاطاعت اور یہ صحیح تحریر مانی گئی۔بطور شہادت میں (جن کے دستخط نیچے درج ہیں) مسٹر عبداللہ آتھم خان صاحب کی طرف سے دستخط کرتا ہوں اور مذکورہ بالا شرائط میں سے کسی شرط کا توڑنا فریق توڑنے والے کی طرف سے ایک اقرار گریز خیال کیا جائے گا۔(۱۶) تقریروں پر صاحبانِ صدر اور تقریر کنندگان اپنے اپنے دستخط اُن کی صحت کے ثبوت میں ثبت کریں گے۔دستخط ہنری کلارک ایم۔ڈی وغیرہ امرتسر۔۲۴؍ اپریل ۱۸۹۳ء (نمونہ ٹکٹ) (نمونہ ٹکٹ) مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ آتھم خان صاحب امرتسری اور مباحثہ مابین ڈپٹی عبداللہ آتھم خان مرزا غلام احمد صاحب قادیانی صاحب امرتسری اور ٹکٹ داخلہ عیسائیوں کیلئے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ٹکٹ داخلہ فریق مسلمانوں کیلئے داخل کرو … … کو داخل کرو… ………کو نمبر نمبر دستخط مرزا صاحب دستخط ڈاکٹر کلارک صاحب امرتسر ۱۸۹۳ء ؍۴؍۲۴