مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 150

میںکہ جب ابھی مسیحیوں کا خدا زندہ تھا عیسائیوں کی حالت اچھی تھی جبھی کہ اس خدا پر موت آئی جس کو کفّارہ کہا جاتا ہے۔تبھی سے عجیب طور پر شیطان اس قوم پر سوار ہو گیا اور گناہ اور نافرمانی اور نفس پرستی کے ہزار ہا دروازے کھل گئے۔چنانچہ عیسائی لوگ خود اس بات کے قائل ہیں اور پادری فنڈر صاحب مصنف میزان الحق فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کی کثرت گناہ اور اُن کی اندرونی بدچلنی اور فسق و فجور کے پھیلنے کی وجہ سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بغرض سزا دہی اور تنبیہہ عیسائیوں کے بھیجے گئے تھے۔پس ان تقریروں سے ظاہر ہے کہ زیادہ تر گناہ اور معصیت کا طوفان مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد ہی عیسائیوں میں اُٹھا ہے۔اس سے ثابت ہے کہ مسیح کا مرنا اس غرض سے نہیں تھا کہ گناہ کی تیزی اس کی موت سے کچھ روبہ کمی ہو جائے گی۔مثلاً اس کے مرنے سے پہلے اگر لوگ بہت شراب پیتے تھے یا اگر بکثرت زنا کرتے تھے یا اگر پکے دُنیا دار تھے تو مسیح کے مرنے کے بعد یہ ہرایک قسم کے گناہ دور ہو جائیں گے کیونکہ یہ بات مستغنی عن الثبوت ہے کہ جس قدر اب شراب خوری و دنیا پرستی و زنا کاری خاص کر یورپ کے ملکوں میں ترقی پر ہے کوئی دانا ہرگز خیال نہیں کر سکتا کہ مسیح کی موت سے پہلے یہی طوفان فسق و فجور کا برپا ہو رہا تھا بلکہ اس کا ہزارم حصہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا اور انجیلوں پر غور کر کے بکمال صفائی کھل جاتا ہے کہ مسیح کو ہرگز منظور نہ تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ میں پکڑا جائے اور مارا جائے اور صلیب پر کھینچا جائے کیونکہ اگر یہی منظور ہوتا تو ساری رات اس بلا کے دفعہ کرنے کیلئے کیوں روتا رہتا اور رو رو کر کیوں یہ دعا کرتا کہ اے ابّا! اے باپ!! تجھ سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔بلکہ سچ یہی ہے کہ مسیح بغیر اپنی مرضی کے ناگہانی طور پر پکڑا گیا اور اس نے مرتے وقت تک رو رو کر یہی دعا کی ہے کہ اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَنِیْ کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اس سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ مسیح زندہ رہنا اور کچھ اور دن دنیا میں قیام کرنا چاہتا تھا اور اس کی روح نہایت بے قراری سے تڑپ رہی تھی کہ کسی طرح اس کی جان بچ جائے لیکن ِبلا مرضی اس کے یہ سفر اس کو پیش آ گیا تھا اور نیز یہ بھی غور کرنے کی جگہ ہے کہ قوم کے لئے اس طریق پر مرنے سے جیسا کہ عیسائیوں نے تجویز کیا ہے۔مسیح کو کیا حاصل تھا اور قوم کو اُس سے کیا فائدہ؟ اگر وہ زندہ رہتا تو اپنی قوم میں بڑی بڑی اصلاحیں کرتا۔بڑے بڑے عیب اُن سے دور کر کے دکھاتا۔مگر