مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 149

مصلوبیت مسیح تھے اب بھی اُسی زور و شور میں ہیں بلکہ کچھ چڑھ، بڑھ کر۔مثلاً دیکھئے کہ اس زمانہ (بقیہ حاشیہ از گزشتہ صفحہ) کہ لندن کے بڑے بڑے کشیش اور پادری صاحبان بھی باوجود دیندار کہلانے کے مئے نوشی میں اوّل درجہ ہوتے ہیں۔جتنے جلسوں میں مجھ کو بطفیل مسٹر نکلیٹ صاحب شامل ہونے کا اتفاق ہوا ہے ان سب میں ضرور دو چار نوجوان پادری اور ریورنڈ بھی شامل ہوتے دیکھے۔لندن میں شراب نوشی کو کسی بُری مد میں شامل نہیں سمجھا گیا اور یہاں تک شراب نوشی کی علانیہ گرم بازاری ہے کہ میں نے بچشم خود ہنگام سیر لندن اکثر انگریزوں کو بازار میں پھرتے دیکھا کہ متوالے ہو رہے ہیں اور ہاتھ میں شراب کی بوتل ہے۔علیٰ ہذا القیاس۔لندن میں عورتیں دیکھی جاتی تھیں کہ ہاتھ میں بوتل بیئر پکڑی لڑکھڑاتی چلی جاتی ہیں۔بیسیوں لوگ شراب سے مدہوش اور متوالے، اچھے بھلے، بھلے مانس مہذب بازاروں کی نالیوں میں گرے ہوئے دیکھے۔شراب نوشی کے طفیل اور برکت سے لندن میں اس قدر خود کشی کی وارداتیں واقعہ ہوتی رہتی ہیں کہ ہر ایک سال اُن کا ایک مہلک وبا پڑتا ہے (یکم فروری ۱۸۸۳ء۔رہبر ہند لاہور) اسی طرح ایک صاحب نے لندن کی عام زناکاری اور قریب ستر ستر ہزار کے ہر سال ولدالزنا پیدا ہونا ذکر کر کے وہ باتیںان لوگوں کی بے حیائی کی لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل سے قلم رُکتی ہے۔بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ یورپ کے اوّل درجہ کے مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں کے اگر دس حصے کئے جائیں تو بلاشبہ نوحصے ان میں سے دہریہ ہوں گے جو مذہب کی پابندی اور خدائے تعالیٰ کے اقرار اور جزاسزا کے اعتقاد سے فارغ ہو بیٹھے ہیں اور یہ مرض دہریّت کا دن بدن یورپ میں بڑھتا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دولت برطانیہ کی کشادہ دلی نے اس کی ترقی سے کچھ بھی کراہت نہیں کی۔یہاں تک کہ بعض پکے دہریہ پارلیمنٹ کی کرسی پر بھی بیٹھ گئے اور کچھ پرواہ نہیں کی گئی۔نامحرم لوگوں کا نوجوان عورتوں کا بوسہ لینا صرف جائز ہی نہیں بلکہ یورپ کی نئی تہذیب میں ایک مستحسن امر قرار دیا گیا ہے۔کوئی دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ انگلستان میں کوئی ایسی عورت بھی ہے کہ جس کا عین جوانی کے دنوں میں کسی نامحرم جوان نے بوسہ نہ لیا ہو۔دنیا پرستی اس قدر ہے کہ آروپ الیگزنڈر صاحب اپنی ایک چٹھی میں (جو میرے نام بھیجی ہے) لکھتے ہیں کہ تمام مہذب اور تعلیم یافتہ جو اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔ان میں سے ایک بھی میری نظر میں ایسا نہیں جس کی نگاہ آخرت کی طرف لگی ہوئی ہو بلکہ تمام لوگ سر سے پیر تک دنیا پرستی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔اب ان تمام بیانات سے ظاہر ہے کہ مسیح کے قربان ہونے کی وہ تاثیریں جو پادری لوگ ہندوستان میں آ کر سادہ لوحوں کو سناتے ہیں، سراسر پادری صاحبوں کا افتراء ہے۔اور اصل حقیقت یہی ہے کہ کفّارہ کے مسئلہ کو قبول کر کے جس طرح عیسائیوں کی طبیعتوں نے پلٹا کھایا ہے وہ یہی ہے کہ شراب خواری بکثرت پھیل گئی۔زنا کاری اور بدنظری شیر مادر سمجھی گئی۔قمار بازی کی از حد ترقی ہوگئی۔خدا تعالیٰ کی عبادت سچے دل سے کرنا اور بکلّی روبحق ہو جانا یہ سب باتیں موقوف ہوگئیں۔ہاں انتظامی تہذیب یورپ میں بے شک پائی جاتی ہے۔یعنی باہم رضامندی کے برخلاف جو گناہ ہیں جیسے سرقہ اور قتل اور زنا بالجبر وغیرہ جن کے ارتکاب سے شاہی قوانین نے بوجہ مصالح ملکی روک دیا ہے ان کا انسداد بے شک ہے مگر ایسے گناہوں کے انسداد کی یہ وجہ نہیں کہ مسیح کے کفّارہ کا اثر ہوا ہے بلکہ رعب قوانین اور سوسائٹی کے دباؤ نے یہ اثر ڈالا ہوا ہے کہ اگر یہ موانع درمیان نہ ہوں تو حضرات مسیحیاں سب کچھ کر گزریں اور پھر یہ جرائم بھی تو اور ملکوں کی طرح یورپ میں بھی ہوتے ہی رہتے ہیں۔انسداد کُلّی تو نہیں۔منہ