مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 135

تیسرے سوال کا جواب سوال: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی کوئی معجزہ نہ ملا۔جیسا کہ سورۃ عنکبوت میں درج ہے (ترجمہ عربی کا) اور کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر نشانیاں یعنی کوئی ایک بھی (کیونکہ لا نافیہ اس آیت میں جو کہ جنسی ہے کل جنس کی نفی کرتا ہے) اس کے ربّ سے۔اور سورۂ بنی اسرائیل میں بھی، اور ہم نے موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا۔اس سے صاف صاف ظاہر ہے کہ خدا نے کوئی معجزہ نہیں دیا۔حقیقت میں اگر کوئی ایک معجزہ ملتا تو وہ نبوت اور قرآن پر متشکی نہ ہوتے؟ فَاَمَّا الْجَوَاب: جن خیالات کو عیسائی صاحب نے اپنی عبارت میں بصورت اعتراض پیش کیا ہے وہ درحقیقت اعتراض نہیں ہیں بلکہ وہ تین غلط فہمیاں ہیں جو بوجہ قلّتِ تد ّبر اُن کے دل میں پیدا ہوگئی ہیں۔ذیل میں ہم ان غلط فہمیوں کو دُور کرتے ہیں۔پہلی غلط فہمی کی نسبت جواب یہ ہے کہ نبی برحق کی یہ نشانی ہرگز نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرح ہر ایک مخفی بات کا بالاستقلال اس کو علم بھی ہو بلکہ اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدا تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔قدیم سے اہل حق حضرت واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوبِ ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناعِ ذاتی اور امکان بالواجب عزاسمہٗ کا عقیدہ ہے۔یعنی یہ عقیدہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کی ہَوِیّتِ حقّہ کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہو۔مگر ممکنات کی جو ہالکۃ الذات اور باطلۃ الحقیقۃ ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عزاِسمہٗ جائز نہیں۔اور جیسا ذات کی رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رو سے بھی ممتنع ہے۔پس ممکنات کیلئے نظراً علٰی ذاتہم عالم الغیب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔خواہ نبی ہوں محدّث یا ولی ہوں، ہاں الہام الٰہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا، یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے جس کو ہم تابعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں نہ کسی اور میں۔عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے مخصوص بندوں کو اپنے بعض اَسرارِ خاصہ پر مطلع کر دیتا ہے اور اوقاتِ مقررہ اور مقدرہ میں رشحِ فیضِ غیب ان پر ہوتا ہے بلکہ کامل مقرب اللہ اُسی سے آزمائے جاتے ہیں اور