مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 136

شناخت کئے جاتے ہیں کہ بعض اوقات آیندہ کی پوشیدہ باتیں یا کچھ چھپے اَسرار اُنہیں بتلائے جاتے ہیں۔مگر یہ نہیں کہ ان کے اختیار اور ارادہ اقتدار سے بلکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ اور اختیار اور اقتدار سے یہ سب نعمتیں انہیں ملتی ہیں۔وہ جو اس کی مرضی پر چلتے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے ہیں اور اسی میں کھوئے جاتے ہیں۔اس خیرمحض کی ان سے کچھ ایسی ہی عادت ہے کہ اکثر ان کی سنتا اور اپنا گزشتہ فعل یا آئندہ کا منشاء بسا اوقات ان پر ظاہر کر دیتا ہے۔مگر بغیر اعلامِ الٰہی انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا۔وہ اگرچہ خدا تعالیٰ کے مقرب تو ہوتے ہیں مگر خدا تو نہیں ہوتے۔سمجھائے سمجھتے ہیں، بتلائے جانتے ہیں، دکھلائے دیکھتے ہیں بولائے بولتے ہیں اور اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہوتے۔جب طاقت عظمیٰ انہیں اپنے الہام کی تحریک سے بلاتی ہے تو وہ بولتے ہیں اورجب دکھلاتی ہے تو دیکھتے ہیں اور جب سناتی ہے تو سنتے ہیں اور جب تک خدا تعالیٰ ان پر کوئی پوشیدہ بات ظاہر نہیں کرتا تب تک انہیں اس بات کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔تمام نبیوں کے حالات زندگی (لائف) میں اس کی شہادت پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف ہی دیکھو کہ وہ کیونکر اپنی لاعلمی کا آپ اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں، نہ بیٹا، کوئی نہیں جانتا۔۱؎ اور پھر وہ فرماتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ نہیں کرتا (یعنی کچھ نہیں کر سکتا) مگر جو میرے باپ نے سکھلایا وہ باتیں کہتا ہوں۔کسی کو راستبازوں کے مرتبہ تک پہنچانا میرے اختیار میں نہیں۔مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔۲؎ غرض کسی نبی نے بااقتدار یا عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔دیکھو اس عاجز بندہ کی طرف جس کو مسیح کر کے پکارا جاتا ہے اور جسے نادان مخلوق پرستوں نے خدا سمجھ رکھا ہے کہ کیسے اس نے ہرمقام میں اپنے قول اور فعل سے ظاہر کر دیا کہ میں ایک ضعیف اور کمزور اور ناتواں بندہ ہوں اور مجھ میں ذاتی طور پر کوئی بھی خوبی نہیں اور آخری اقرار جس پر ان کا خاتمہ ہوا کیسا پیارے لفظوں میں ہے۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ یعنی (مسیح اپنی گرفتاری کی خبر پا کر) گھبرانے اور بہت دلگیر ہونے لگا اور ان سے (یعنی اپنے حواریوں سے) کہا کہ میر ی جان کا غم موت کا سا ہے اور وہ تھوڑا آگے ۱؎ مرقس باب ۱۳۔آیت ۳۲ ۲؎ مرقس باب ۱۰ آیت ۸