مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 381 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 381

381 پھر انجیل میں مسیح کی پیدائش کا موقع بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔اسی علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رہ کر اپنے گلہ کی (لوقا باب ۲ آیت ۸) نگہبانی کر رہے تھے“ ظاہر ہے کہ یہ گرمی کا موسم تھا نہ کہ شدید سردی کا۔دسمبر کا مہینہ تو علاوہ شدید سردی کے فلسطین میں سخت بارش اور دھند کا ہوتا ہے۔کون یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ ایسے موسم میں کھلے میدان میں چر وا ہے اپنے گلوں کو لے کر باہر نکل آئے تھے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ گرمی کا موسم تھا۔چنانچہ پیکس تفسیر بائبل میں انجیل لوقا کے مفسر پرنسپل اے۔جے۔گریو۔ایم اے ڈی، کی طرف سے لوقا کے اس بیان پر کہ حضرت مسیح کی پیدائش جس موسم میں ہوئی تھی اس وقت چروا ہے گلوں کو باہر نکال کر کھلے میدان میں راتیں بسر کرتے تھے۔مندرجہ ذیل تبصرہ موجود ہے کہ یہ موسم ماہ دسمبر کا نہیں ہوسکتا۔ہمارا کرسمس ڈے مقابلہ بعد کی ایک روایت ہے جو کہ پہلے پہل مغرب میں پائی گئی۔اسی طرح بشپ جانس اپنی کتاب Rise of Christianity میں تحریر کرتے ہیں: اس تعیین کے لئے کوئی قطعی ثبوت نہیں ہے کہ ۲۵ دسمبر ہی مسیح کی پیدائش کا دن تھا اگر ہم لوقا کی بیان کردہ ولادت مسیح کی کہانی پر یقین کر لیں کہ اس موسم میں گڈریے رات کے وقت اپنی بھیڑوں کے گلہ کی نگرانی بیت اللحم کے قریب کھیتوں میں کرتے تھے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش موسم سرما میں نہیں ہوئی جبکہ رات کو ٹمپریچر اتنا گر جاتا ہے کہ یہودیہ کے پہاڑی علاقہ میں برف باری ایک عام بات ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کرسمس ڈے کافی بحث و تمحیص کے بعد قریباً ۳۰۰ء میں متعین کیا گیا ہے۔“ 66 (صفحہ ۷۹) پس ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مسیح کی پیدائش دسمبر میں نہیں ہوئی۔( تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه ۱۸۵،۱۸۴) خلاصہ کلام یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام چار قبل مسیح سے پہلے پیدا ہوئے۔ان کی پیدائش موسم گرما میں ہوئی اور عیسائیت کے ابتدائی تین سو سالوں میں کسی نے کرسمس ڈے نہیں منایا۔پہلی بار