مکتوب آسٹریلیا — Page 341
341 قادیان پہنچ کر آپ نے بیعت کی درخواست کی جو منظور ہوئی اور یوں بیعت کر کے آپ جماعت کی جومنظور احمدیہ میں داخل ہو گئے۔چوہدری محمد خان صاحب نے جس روز بیعت کی وہ جمعہ کا روز تھا۔بیعت کے بعد آپ نے گاؤں واپس جانے کی اجازت طلب کی تو حضرت صاحب نے فرمایا ابھی ٹھہر و۔چنانچہ تعمیل ارشاد میں آپ اگلے جمعہ تک ٹھہرے اور جمعہ پڑھ کر اجازت لے کر گاؤں واپس چلے آئے۔اس کے بعد تو یہ معمول بن گیا کہ ہر جمعہ قادیان میں پڑھا کرتے تھے اور عیدوں جلسوں وغیرہ میں شامل ہوتے تھے۔بیعت کے بعد ایک روز جب چوہدری محمد خان حضرت صاحب کے پاؤں دبا رہے تھے تو جھجکتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں جس سے میری دین و دنیا دونوں سنور جائیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمارا وظیفہ یہی ہے کہ نماز سنوار کرادا کیا کرو اور استغفار کثرت سے کیا کر و بعد میں ایک مرتبہ پھر جب آپ ایسے ہی پاؤں دبارہے تھے تو پھر یہی عرض کیا تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ استغفار اور درود شریف کثرت سے پڑھا کریں چنانچہ وہ اس پر عمر بھر عمل پیرا رہے آپ کی روایات حضرت میرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی میں درج فرمائیں۔۱۹۰۵ء میں حضرت مولوی عبد الکریم سیالکوٹی صاحب وفات پاگئے۔اسی زمانہ میں حضرت مولوی برہان الدین جہلمی صاحب بھی فوت ہو گئے۔خود حضرت صاحب کو بھی قرب وفات کے الہامات متواتر ہورہے تھے۔حضرت صاحب کو اس بات کا بڑا فکر تھا کہ علماء کی جماعت فوت ہو رہی ہے لیکن ان کے قائم مقام سامنے نہیں آرہے۔حضرت صاحب نے ۱۹۹۸ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول اسی غرض کے لئے جاری فرمایا تھا کہ بچے دنیا کے علوم خدمت دین کے لئے سیکھیں۔۱۹۰۵ء کے اواخر میں قادیان کے ایک جلسہ میں حضرت صاحب نے ان باتوں کو بیان فرمایا۔اس جلسہ میں چوہدری محمد خان بھی موجود تھے آپ بتایا کرتے تھے کہ حضرت صاحب کی باتیں سن کر میرا دل رفت سے بھر گیا اور آنکھوں سے آنسورواں ہو گئے۔اس وقت ان کی شادی ہوچکی تھی لیکن ابھی اولاد کوئی نہ تھی۔آپ نے اشکبار آنکھوں سے اپنے دل میں دعا کی اور خدا سے وعدہ کیا کہ اے خدا اگر تو مجھے دو بیٹے دے دے تو میں ایک کو تو تعلیم دلواؤں اور دوسرے کو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں پڑھاؤں۔اللہ کی قدرت کہ اس کے بعد ان کے ہاں پانچ بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے تین نو عمری میں فوت ہو گئے اور دو