مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 298 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 298

298 حضور نے جواب میں ارشاد فرمایا: ( مفہوم ) آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ ان آیات میں مذکور شیاطین روحانی وجود ہی ہیں۔شیاطین الانس بھی تو ہوتے ہیں اور اگر وہ مراد لئے جائیں تو وحی الہی کی حفاظت کو تمثیلاً بیان کیا گیا ہے۔نبیوں کے مخالفین نبی کے پاس آکر اپنے شکوک دور کرنے کی بجائے پیچھے اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ کر ان کی وحی پر اعتراض کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو ان کے مقابلہ کیلئے خدا ایسے روحانی وجود یعنی عارف باللہ افراد کھڑے کر دیتا ہے جو خدا دادنور سے ان شیطانوں کی پھیلائی ہوئی تاریکیوں کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔66 حضور نے وحی الہی کی حفاظت کے اسی طریق کا ذکر قرآن کریم (اردو ترجمہ ) کے سورۃ الحجر کے تعارف میں یوں بیان فرمایا ہے: اسکے علاوہ اللہ تعالیٰ بڑی تحدی سے یہ اعلان فرما تا ہے کہ دشمن خواہ کچھ بھی کہے یقیناً ہم نے ہی اس کتاب کو نازل فرمایا ہے اور آئندہ بھی اسکی حفاظت کرتے چلے جائیں گے اسکے بعد کی آیات میں بروج کا ذکر فرمایا گیا ہے جو سورۃ البروج کی یاد دلاتا ہے اور ہم ہی اس کلام کی حفاظت کریں گئے“ کے مضمون پر سے پردہ اٹھاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگ مامور ہوتے رہیں گے جو قرآن کریم کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت مستعد رہیں گے۔یہاں بروج میں اسطرف بھی اشارہ ہے کہ جو مجددین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بارہ برجوں کے طور پر آتے رہے وہ بھی اسی کام پر مامور تھے“ ( قرآن کریم اردو تر جمه تعارف مضامین سورۃ الحجر صفحه ۴۲۳) المسیح حضرت خلیفۃ ایح الرابع رحمہ اللہ نے شہاب ثاقب کے نظارہ کوایک عارف باللہ