مکتوب آسٹریلیا — Page 297
297 کسی اور مادی سبب کے متعلق بھی اگر کوئی شخص خیال کرے کہ وہ قطعی اور یقینی تاثیر رکھتا ہے تو وہ مشرک ہے۔۔نجومیوں وغیرہ کے لحاظ سے اس رجم شیاطین کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جس زمانہ میں نبی نہیں ہوتے یہ لوگ خوب دعوی کرتے رہتے ہیں لیکن جب نبی ظاہر ہوتے ہیں تو ان کو خوب مار پڑتی ہے یعنی فریب کھل جاتا ہے اور لوگ مصفی غیب اور تک بندی میں فرق معلوم کر لیتے ہیں۔66 پھر فرماتے ہیں: ( ایضاً صفحه : ۴۴-۴۵) یہ امر واقعات اور احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کے ظہور کی علامت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے شہب کا گرنا سنت کے طور پر مقرر کر رکھا ہے۔اسکی ظاہری وجہ تو جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں یہ ہے کہ تا اس آسمانی نشان کو دیکھ کر لوگ اس وسوسہ سے نجات پائیں کہ شاید اسکے معجزات کسی انسانی تدبیر کا نتیجہ ہوتے ہوں مگر کوئی تعجب نہیں کہ اسکے علاوہ بھی کوئی مخفی وجہ نبی کے زمانہ میں شہب گرنے کی ہو اور اُس میں کوئی روحانی تاثیرات بھی ہوں جو گوانسانی نگاہ سے مخفی ہوں لیکن ان شیطانی تدابیر کا ازالہ کرنے میں ممد ہوتی ہوں جو انبیاء کے دشمن کرتے رہتے ہیں۔“ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی تشریح لمسیح (ایضاً صفحہ:۳۷) خاکسار نے ایک بار حضرت خلیفہ اسیح الرابع سے سوال کیا کہ شیاطین تو روحانی وجود ہوتے ہیں وہ اگر گھات میں بیٹھ کر خدائی وحی کو چوری چھپے سننے کی کوشش کریں تو ان کو دور کرنے کے لئے ان پر آگ اور پتھروں کی بارش کیسے مؤثر ہوسکتی ہے؟