مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 296 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 296

296 دشمنوں کا روز مرہ کا مشغلہ ہے اور یہی وہ اچکنا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی مشیت نے جائز رکھا ہے اور اس سے نبی کے مشن کی حفاظت نہیں کی۔۔۔غرض جہاں کلام الہی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حفاظت حاصل ہے کہ اس میں کوئی ظاہری یا باطنی دشمن تبدیلی نہیں کر سکتا۔وہاں اللہ تعالیٰ نے شیطانی لوگوں کو اپنی مضلحت سے اس امر کی اجازت دے رکھی ہے کہ اس کلام کے غلط معنے لوگوں میں پھیلائیں یا نبی کی وحی کے متعلق جھوٹ بول بول کر لوگوں کو جوش دلائیں۔لیکن جب وہ ایسا کر چکتے ہیں تو پھر ان پر آسمان سے شہاب گرتا ہے اور نبی کے ذریعہ سے ان کے فریب کا پردہ چاک کر دیا جاتا ہے۔یہ وہ استثناء ہے کہ اس سے نہ خدا تعالیٰ کی طاقت پر حرف آتا ہے نہ دین مخدوش ہوتا ہے کیونکہ اس قسم کی شرارت کو اللہ تعالیٰ نے خود ہی مستغنی کر دیا ہوا ہے۔نیز اس قسم کی شرارت سے دین میں کچھ حرج نہیں آتا وہ اپنی جگہ محفوظ رہتا ہے۔یہ جھوٹی باتیں صرف دشمنوں میں پھیلائی جاتی ہیں اور دشمن کی چند روز و خوشی کا موجب ہوتی ہیں۔۔۔ایک بات اور بھی یادر کھنے کے قابل ہے اور وہ نجمین اور نام نہاد روحانیین کے بارہ میں ہے انبیاء کا وجود ان کے خیالات کا قلع قمع بھی کرتارہتا ہے۔پس ضمنی طور پر ان کے متعلق بھی یہ آیت چسپاں ہوسکتی ہے۔۔۔اسلام وہم اور شرک سے روکتا ہے پس جہاں تک ان علوم کا تعلق تخمین اور وہم سے ہے وہ نا جائز ہیں اور جب ان کو مذہب کی طرح سمجھا جاتا ہے وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ستاروں کی حرکات میں تاثیرات یقینا ہیں لیکن وہ قانون قدرت کا ایک جزو ہیں۔ہزاروں امور ایک وقت میں تا خیر ڈال رہے ہوتے ہیں۔اپنی ذات میں کامل تاثیر جو دوسرے کی محتاج نہیں صرف اللہ تعالیٰ کی ہے پس ستارے کیا