مکتوب آسٹریلیا — Page 286
286 بلیکی (بارہواں باب ) اس کے بعد جب سائرس فارس اور مید کے بادشاہ کا زور ہوا تو اس کے ساتھ یہود نے خفیہ مجھوتہ کیا اور اس کے حملہ آور ہونے پر اندر سے اس کی مدد کی جس کی وجہ سے وہ بابل پر بہت جلد قابض ہو گیا۔اس کے بعد انعام کے طور پر اس نے بنی اسرائیل کو اپنے ملک کی طرف واپس جانے کی اجازت دے دی۔اس وقت عزرا نبی کا زمانہ تھا۔اور انہی کے زمانہ میں دوبارہ تو رات لکھی گئی۔یہ سارا عرصہ تقریباً سو سال کا بنتا ہے اور ہر شخص قیاس کر سکتا ہے کہ اس عرصہ میں کتنے لوگ زندہ رہے ہوں گے اور کتنے مر چکے ہوں گے۔بخت نصر کے حملے اور عزرا نبی کے زمانہ میں سوسال کا جو وقفہ ہے اس میں اگر یہود کو تو رات حفظ ہوتی تب بھی اتنے لمبے عرصہ کے بعد اس کا دوبارہ لکھا جانا یقینی نہیں سمجھا جاسکتا تھا کیونکہ بہت سے لوگ مرچکے ہوں گے لیکن ان میں تو حفظ کا رواج ہی نہیں تھا اس لئے انہوں نے جو کچھ لکھا قیاسی اور خیالی طور پر لکھا چنانچہ اس کا ثبوت بائبل سے ہی اس رنگ میں ملتا ہے کہ پہلے تو یہ ذکر آتا ہے کہ موسیٰ سے خدا نے یہ کہا اور موسیٰ کو خدا نے یہ حکم دیا مگر اس کے بعد لکھا ہے: سوخداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گا ڑا پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا اور موسیٰ اپنے مرنے کے وقت ایک سو بیس برس کا تھا کہ نہ اس کی آنکھیں دھندلا ئیں اور نہ اس کی تازگی جاتی رہی (استشناء باب ۴۳ آیت ۵ تا ۷ ) اب کیا کوئی شخص تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ موسیٰ سے کہہ رہا ہے کہ پھر موسیٰ مر گیا اور اسے موآب کی ایک وادی میں گاڑا گیا مگر اب اس کی قبر کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔صاف پتہ لگتا ہے کہ موسیٰ کی وفات کے بعد کسی شخص نے یہ حالات لکھے ہیں اور اس وقت لکھے ہیں جبکہ موسیٰ کی قبر کا بھی لوگوں کو علم نہیں رہا تھا کہ وہ کہاں گئی ( تفسیر سورہ اعلی۔آیت ۶- از تفسیر کبیر جلد هشتم صفحه ۶۱۴ تا ۸۱۴)