مکتوب آسٹریلیا — Page 209
209 فون کرنے والے بچوں کی عمریں زیادہ تر ۱۰ اور ۴ سال کے درمیان تھیں۔کئی ماں باپ کی متوقع علیحدگی پر دلبرداشتہ تھے۔بعض علیحدگی کے بعد کے مسائل سے پریشان تھے۔بعض اپنے سوتیلے والد یا والدہ کی سرد مہری یا سختی کے شاکی تھے۔دوسری شکایات میں دوستوں اور ہم جولیوں سے جھگڑے، گھر کے اپنے افراد یا باہر والوں کی بچوں سے جنسی زیادتیاں ، بچپن کے حمل، مار پیٹ ،خوف زدگی ، اکیلا پن اور منشیات کا استعمال تھا۔بعض بچے مجبور ہوکر گھروں کو چھوڑ جاتے ہیں اور اس سے بدتر حالات میں پھنس جاتے ہیں اور بعض گلیوں میں بسنے والے بچے (Street Kids) بن جاتے ہیں۔یہی ستم رسیدہ بچے بڑے ہو کر مجرم بن کر پورے معاشرے کا امن برباد کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گھروں سے بھاگنے والے بچے کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھروں کو کسی شوق میں نہیں چھورا بلکہ ان کے گھر یلو حالات ہی نا قابل برداشت ہو گئے تھے۔( الفضل انٹر نیشنل 1۔3۔96)