مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 188 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 188

188 سسلی کے مجسمہ مریم کے آنسوؤں کا راز ہمیشہ سے انسانوں کا ایک طبقہ تو ہم پرستی کا شکار رہا ہے۔سیاسی وسماجی افراتفری کے دور میں تو ہم پرستی خصوصاً زور پکڑ جاتی ہے۔سابق یوگوسلاویہ اور روسی ریاستوں کے جنگ وجدل کے دور میں یورپ خصوصاً اس کا تجربہ کر رہا ہے۔لوگوں کو میڈونا کے مجسموں کی آنکھوں میں آنسو نظر آتے ہیں چرچ اس طرح کی روایات کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتا رہا ہے سوائے ایک رونے والی میڈونا کے جس کو چرچ نے ۱۹۵۳ء میں سرکاری طور پر تسلیم کر لیا کہ اس کی آنکھوں سے واقعی آنسو ٹپکتے ہیں۔یہ میڈونا حضرت مریم کا پلاسٹر کا مجسمہ ہے جو سلی کے مشرقی ساحل پر واقع شہر Siracusa میں بنا ہوا ہے۔اب ایک کیمسٹ نے اس مجسمہ کے آنسوؤں کا راز بھی فاش کر دیا ہے اس کا ذکر برطانیہ کے رسالہ کیمسٹری میں کیا گیا ہے۔کیمسٹ نے ہو بہو اس رونے والے مجسمہ کی طرح کا ایک مجسمہ بنایا جو بغیر کسی میکانکی کل یا الیکٹرانک آلات کے آنکھوں سے آنسو بہاتا ہے وہ کافی عرصہ لوگوں کو بے وقوف بنا تا رہا۔اب اس نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ مجسمہ پلاسٹر کا بنا ہوا ہے جس کی اندرونی سطح مسام دار (Porous) ہے اور باہر کی چکنی روغن دار (Glazed) ہے۔اندر کی سطح پانی جذب کر لیتی ہے اور باہر کی نمی کو خارج ہونے سے روکتی ہے۔اس کے سر میں ایک خفیہ مقام ہے جہاں سے اندر سے خالی مجسمہ میں پانی ڈالا جاتا ہے اور اس کی آنکھوں پر سے روغن ایسے طریق سے کھرچا ہوا ہے کہ محسوس نہیں ہوتا۔