مکتوب آسٹریلیا — Page 169
169 (Arthritits) میں افاقہ ہوتا ہے۔مچھلی ذیا بیطس کے لئے بھی مفید ہے۔جن جانوروں پر تحقیق کی گئی ان میں سے ایسے جن کو انسولین کے خلاف بدن میں مزاحمت تھی ان کو مچھلی کھلانے سے انسولین کے خلاف ان کی الرجی ختم ہوگئی۔سڈنی مارٹنگ ہیرلڈ لکھتا ہے کہ مچھلی کے تیل کے ایسڈ کی صورت میں موجودہ ہزار سال کا معجزانہ علاج دریافت ہوا ہے۔سالمن مچھلی جو بالخصوص اومیگا ۳ سے بھر پور ہوتی ہے وہ امراض قلب کولیسٹرول لیول، دمہ، آرتھرائٹس اور نظر کی بیماریوں کا بہت عمدہ علاج ہے۔اخبار لکھتا ہے شاید ہی کوئی ہفتہ گزرتا ہو گا جب مچھلی کے فوائد پر کوئی نئی سے نئی تحقیق سامنے نہ آتی ہو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مچھلی کو اپنے فضلوں میں سے گنواتے ہوئے اسے لـحـمــا طرياً قرار دیا ہے (النمل: ۱۵)’طریا‘ مصدر ہے جو کبھی مفعول اور کبھی فاعل کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو ” لحماً طرياً “ کے معنے ہوئے ایسا گوشت جو تر و تازہ رکھا گیا ہے یا ایسا گوشت جو کھانے والے کو ترو تازہ رکھتا ہے یعنی صحت بخش ہے۔اور طریا “ ہونے کی وجہ سے جسم کی رطوبات کو قائم رکھتا ہے جیسے کسان زمین میں بیج بونے کے لئے اس کے وطر“ ( وتر ) پر آنے کا انتظار کرتا ہے۔’طری النباء ، کسی عمارت کو مٹی گارے سے پلستر کرنے کو کہتے ہیں جس سے عمارت میں ایک نیا پن ، خوبصورتی اور مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے۔الغرض مچھلی کے فوائد پر ہمیشہ تحقیق ہوتی رہے گی اور ہر تحقیق قرآنی صداقت کو ثابت کرنے والی ہوگی۔( الفضل انٹر نیشنل 16۔2۔96)