مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 146 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 146

146 Kemchila Boy Home میں رکھا گیا۔دوسرے ادارہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں وہاں انسان نہیں بلکہ حیوان سمجھا جاتا تھا۔رات کے وقت ان کے سامنے بے حیائی کے کام کئے جاتے۔ایک بار اتفاقا مجھ سے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا تو سزا کے طور پر ننگا کر کے میری پیٹھ پر دس کوڑے برسائے گئے جس کے نتیجہ میں تین ماہ تک بیٹھ نہ سکا۔یہ ایسا تجربہ تھا جو میری روح پر نہ مٹنے والے حروف میں لکھا جا چکا ہے۔بعد میں برنم برنم ساری عمر ا یوجنیز کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔انہوں نے بڑی عمر میں جا کر ایک گوری عورت سے شادی کی جوان سے عمر میں بہت چھوٹی تھی اس بیوی سے ایک بیٹا ۱۹۸۹ء میں پیدا ہوا۔ایوجیز کی مسروقہ نسل جس کا اوپر ذکر ہوا ہے اس کے بارہ میں آسٹریلیا کے Human Rights and Equal Opportunity Commission نے حال ہی میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔یہ رپورٹ جب تک پارلیمنٹ میں پیش نہ ہو عوام کے لئے شائع نہیں کی جاسکتی لیکن اس کے بعض حصے اخبارات میں اشاعت کے لئے دے دیئے گئے ہیں۔رپورٹ کا نام Bringing them Home ہے۔سڈنی مارننگ ہیرلڈ کی ۲۴ رمئی ۱۹۹۷ء کی اشاعت کی Ms Debra jopson جو مضمون اس رپورٹ کے بارہ میں شائع ہوا ہے اس کے بعض حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: ”جب یورپین لوگوں نے آسٹریلیا پر قبضہ کیا تو اس کے ابتدائی ایام ہی سے ایبور جنی بچوں کو ان کے خاندانوں اور قبیلوں سے زبردستی جدا کیا جاتا رہا ہے۔عموماً تو بچوں کو ان کے ماں باپ کی عدم موجودگی میں اٹھا کر لے جاتے تھے۔لیکن یوں بھی ہوتا تھا کہ بچوں کو زبر دستی ان کی ماؤں کی گود سے چھین لیا جاتا۔جن اداروں میں لے جا کر انہیں رکھتے انہیں ٹریننگ انسٹی ٹیوشن کا نام دیا ہوا تھا۔جیسے گوٹا منڈرا ( cootamundra) والا۔وہاں لڑکیوں کو گھر کا کام کاج سکھایا جاتا تھا۔دراصل ان کوستے داموں گھر یلو نوکرانیوں کا حصول مقصود تھا۔ان سے شدید تھکا دینے والا کام لیا جاتا تھا۔گورے قدیمی باشندوں کے متعلق کہا کرتے تھے کہ وہ آزاد نہ مخلوط جنسی