مکتوب آسٹریلیا — Page 147
147 تعلقات رکھتے ہیں اور ان کا خیال تھا کہ جب یہ کالی بچیاں کام سے تھک کر چور ہو جائیں تو اس وقت وہ اس کام ( Promiscuity) سے بچیں گی۔ان عورتوں سے کمیشن نے جو گواہیاں حاصل کیں ان کے مطابق ہر پانچ بچیوں میں سے ایک کو سخت زدوکوب کیا گیا اور دس میں سے ایک کو جنسی زیادتیوں کا شکار بنایا گیا۔ایسے ادارے اور گھر جس میں یہ چوری کردہ بچے رکھے جاتے تھے ان سے ان کا ایبور جنی ہونا چھپایا جاتا تھا۔یا کبھی اس کا انکار کر دیا جاتا تھا اور یا پھر ایور جنی ہونے کی بنا پر ان کو ذلیل کیا جاتا تھا۔ان کی محنت کا استحصال ہوتا تھا۔ان کو عام حالات سے بہت بدتر حالت میں رکھا جاتا تھا۔ان کو تعلیم بھی بڑی معمولی اور نامکمل دی جاتی تھی۔وہ وحشیانہ مظالم اور جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنتے تھے اور کئی بد قسمت تو ایسی تھیں کہ وہ متواتر جنسی ہوس کا نشانہ بنتیں۔سینچلا (Kinchela) کا ادارہ تو بالکل قیدخانہ کی طرح تھا۔اور وہاں انہیں حیوان سمجھا جاتا تھا۔۔۔۔جان جب ابھی شیر خوار بچہ تھا کہ اسے اٹھا کر Bomaderry children Home میں لے گئے۔جب وہ دس سال کا ہوا تو کنچلا کے ادارہ میں منتقل کر دیا گیا۔وہاں کا حال بیان کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ اگر ہم وہاں کسی ملازم کے آگے بول پڑتے تو ہمیں لائن“ میں بھیج دیا جاتا۔وہاں اس زمانہ میں 9ے لڑکے تھے انہیں حکم دیا جاتا کہ ملزم کو باری باری مارو۔چنانچہ وہ مکے مار مار کے تمہارا بھر کس نکال دیتے۔مکے مارنے والوں میں تمہارا بھائی اور کزن بھی شامل ہوتا لیکن وہ مارنے پر مجبور تھے۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو بھی لائن میں بھیج دیا جاتا۔اگر کسی لڑکے کو مار کھا کھا کر پسلیاں یا ناک ٹوٹ جاتا تو بھی جب تک سارے ۷۹ لڑکے اس کو مار نہ لیتے ان کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔اور یہ روز کا معمول تھا۔کہیں ۱۹۳۵ء میں جا کر Aborigines Protection) Board نے فیصلہ کیا کہ کنچلا کے ادارہ کے سربراہ کو کہا جائے کہ لڑکوں کو جنگلے