مکتوب آسٹریلیا — Page 113
113 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں نے کیا دیا اور کیا لیا ؟ آسٹریلیا میں کم از کم چالیس ہزار سال سے مقامی باشندے آباد تھے۔اپنے اپنے قبیلہ کے رسم ورواج کے پابند تھے۔جنگلوں میں جو کچھ ملتا اسے کھا کر اپنی بھوک مٹاتے۔بیاہ شادی اور موت کی رسومات بھی ان میں تھیں۔باوجود آزاد رہنے کے اپنے سرداروں اور بڑوں احترام کرتے تھے۔خوا ہیں جن کو ایک حدیث میں نبوت کا چالیسواں حصہ بتایا گیا ہے۔ان کے لئے رہنمائی کا ذریعہ تھیں ان کو یقین تھا کہ اس کائنات میں ایک برتر ہستی ہے۔جو ہر چیز سے پہلے موجود تھی۔جس نے دنیا کو یدا کیا اور پھر آسمانوں پر چلی گئی اور وہ انہیں خوابوں میں آئندہ کی باتیں بتاتی ہے۔وہ ہستی سب کے پیدا کرنے والی ہے اور کوئی چیز ازلی ابدی طور پر اس کے ساتھ نہیں ہے۔یہ لوگ نہ شراب سے آشنا تھے نہ نشوں کے عادی تھے نہ کوئی ایسی جوئے کی لت انہیں تھی۔ان لوگوں کے مذہبی حالات حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشہور کتاب ,Revelation, Rationality) (Knowledge and Truth کے صفحات ۲۱۷ تا ۲۳۴ میں درج کئے ہیں جو دوسروں کی تحقیق پیدا اور اپنے ذاتی مشاہدہ پر بنی ہیں اور بہت دلچسپ ہیں۔یور بین اقوام نے ان سے ان کا ملک چھینا۔جہاں تک ہوسکا ان کو ختم کیا اور ملک کو اپنے انداز اور مفاد کے مطابق آباد کیا۔کالوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کا جو نتیجہ نکلا ہے اس کی ایک جھلک اس رپورٹ میں دیکھی جاسکتی ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔لکھا ہے کہ ۲۰۰ء کے