مکتوب آسٹریلیا — Page 114
114 دوران یعنی صرف ایک سال کے عرصہ میں نیو ساؤتھ ویلز آسٹریلیا میں کالوں کی کل آبادی کا پانچواں حصہ عدالتوں میں پیش کیا گیا۔اس تعداد میں ۲۰ تا ۲۴ سال کے کالے نوجوانوں کی کل آبادی کا چالیس فیصد شامل تھا یعنی نو جوانوں کا حال تو بہت ہی خراب ہے۔جرائم کا سبب کالوں کا منشیات اور الکحل کی لت میں مبتلا ہونا ہے۔حکومت ان کو اتنا دیتی ہے کہ بغیر کوئی کام کئے زندگی گزار سکتے ہیں لیکن بے کاری نے انہیں اخلاقی اور سماجی برائیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔جب خرچ پورے نہیں ہوتے تو چوریاں کرتے اور ڈا کے ڈالتے ہیں۔ان میں وہ سب برائیاں رچ بس گئی ہیں جن میں گورے خود بھی مبتلا ہیں اور ان کے سمجھدار لوگ ان سے تنگ آچکے ہیں لیکن کچھ نہیں کر سکتے بلکہ شخصی آزادی کے نام پر کھلی چھٹی دینے پر مجبور ہیں۔حد تو یہ ہے کہ ان طور طریقوں سے تنگ آنے کے باوجود ان کے خلاف کچھ سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔اب ان کالوں کی اہلی زندگی برباد ہو چکی ہے۔اکثر شادی کے بغیر رہتے ہیں نشہ آور اشیاء کھا کر بے کار پڑے رہتے ہیں یا ادھر ادھر پھرتے رہتے ہیں۔( الفضل انٹر نیشنل 23۔1۔04)