مکتوب آسٹریلیا — Page 97
97 بچیوں پر ظلم آج بھی جاری ہے ایام جاہلیت میں لوگ بچیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے یہ دلدوز ظلم آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے۔اس سلسلہ میں جو اعدادوشمار انڈیا، چین ، تائیوان سے اکٹھے کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ملکوں میں آج بھی بے شمار لوگ ہیں جو بچیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور دوران حمل ٹیسٹ کے ذریعہ اگر پتہ لگ جائے کہ بچی آرہی ہے تو حمل کو ضائع کروادیتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ہاں صرف بیٹے ہی پیدا ہوں۔جہاں مغربی ملکوں میں بچے اور بچیوں کی تعداد تقریباً برابر ہوتی ہے وہاں مذکورہ بالا ممالک میں ۱۰۶ تا ۱۴ الڑکوں کے مقابلہ میں ۰۰ الڑکیاں ہیں۔چونکہ ان ملکوں کی آبادی کروڑوں میں ہے وہاں پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد جو بچیاں ماردی جاتی ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں جا پہنچتی ہے۔عورتوں کے ساتھ تعصب کا یہ حال ہے کہ انڈیا میں کثرت سے ایسے خاندان ہیں جو غذا کی کمی کا شکار ہیں ان میں جب تک مرد اورلڑ کے پیٹ بھر کر کھانا نہ کھالیں عورتوں اور بچیوں کو کھانے کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی۔صرف انڈیا میں ۱۹۸۱ء تا ۱۹۹۱ء کے دوران ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ بچیاں پیدائش سے پہلے ہی ختم کر دی گئیں۔اسی عرصہ میں مزید چالیس لاکھ بچیاں اپنی عمر کے پہلے چار تا چھ سال کے عرصہ میں غائب“ کر دی گئیں یعنی ہر ہزار میں سے ۳۶ لڑکیاں آبادی سے غائب ہو گئیں۔خیال تھا کہ چونکہ کافی بچیاں اب پیدائش سے پہلے ہی غائب کر دی جاتی ہیں لہذا پیدائش کے بعد کی اموات میں کمی واقع ہو جائے گی