مکتوب آسٹریلیا — Page 98
98 لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ایسی گم کردہ بچیوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔امریکہ کے اعداد وشمار کے ادارہ نے کہا ہے کہ چین میں ۱۹۸۰ء تا ۱۹۹۰ء کے دوران پندرہ لاکھ بچیوں کو پیدائش سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔یہی حال تائیوان کا ہے جہاں بچیوں کی جنس کا پتہ لگا کر پیدائش سے پہلے ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔جن عورتوں کے ہاں شروع میں بیٹے ہو جاتے ہیں وہ پھر بچیوں کی پیدائش کے خوف سے مانع حمل ادویہ استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں۔سروے میں کہا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ گھرانوں میں جہاں بچیاں پڑھ لکھ کر ملازمت وغیرہ کے ذریعہ سے اپنا بوجھ خود اٹھاسکتی ہیں یا اپنے جہیز کے لئے بھی ، ماں باپ کا ہاتھ بٹاسکتی ہیں وہاں بچیوں کے خلاف تعصب کم ہے اگر چہ دل کی گہرائیوں سے وہ بھی بیٹے ہی چاہتے ہیں۔مذکورہ بالا حالات حقیقتاً بہت درد ناک ہیں۔کاش ان قوموں کے رہنما ان وجوہات کو تلاش کریں جن کی وجہ سے ماں باپ بچیوں کو اس قدر نا قابل برداشت بوجھ سمجھتے ہیں اور ان اسباب کو دور کر کے ان مظلوم بچیوں کی سیسیں لیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں حتی کہ ان کے ماں باپ بھی نہیں۔سب سے بڑی لعنت تو جہیز کی ہے اگر اسی کا علاج کر لیں تو صورت حال بہتر ہوسکتی ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 17۔1۔97)