مکتوب آسٹریلیا — Page 55
55 ہے کہ کسی بچہ کو پیدائش سے پہلے ہی اس جرم میں ماردیا جائے کہ وہ بڑا ہوکر سدومی بنے گا۔ڈاکٹر واٹسن وہ ہیں جنہوں نے DNA دریافت کیا تھا اور ۱۹۸۹ء میں ایک ایسے بین الاقوامی ادارہ کے امریکی شاخ کے ڈائریکٹر تھے جو اس کوشش میں تھا کہ انسان کے اندر پائے جانے والے دو لاکھ جینز (Genes) کی شناخت کی جائے۔بعد میں وہ اس ادارے سے علیحدہ ہو گئے تھے دی ٹیلیگراف لندن بحوالہ سڈنی مارننگ ہیرلڈ ، ۹۷۔۲۔۱۸) ہر انسان کے جسم میں تقریبا دس ہزار ارب خلیات (Cells) ہوتے ہیں ہر خلیہ کے مرکز (Nucleus) میں اس کا ڈی۔این۔اے ہوتا ہے جس کے اندر پچاس ہزار تا ایک لاکھ جینز ہوتے ہیں۔یہ جینز انسان کو وہ بناتے ہیں جو وہ ہے۔انسان کا رنگ ونسل، قد ، موروثی خوبیاں ، خامیاں ، عادات سب اس کے اندر ودیعت کی ہوئی ہوتی ہیں۔بچے جہاں اپنے والدین بلکہ کئی کئی پشتوں کے آباؤ اجداد کی خوبیوں کے وارث بنتے ہیں وہاں ان کی خرابیوں ، بیماریوں اور عادات وغیرہ کو بھی ورثہ میں پاسکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض بچہ کی پیدائش سے پہلے یہ علم ہو جائے کہ بچہ کے کسی موذی مرض میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے تو بچہ کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دینا جائز ہوگا ؟۔جسمانی بیماریوں کے علاوہ بعض خطر ناک اخلاقی بیماریاں بھی جیز میں پائی جاسکتی ہیں۔مثلاً اگر یہ پتہ چل جائے کہ بچہ نے ورثہ میں خطرناک حد تک غصہ کے جینز پائے ہیں اور اس میں خطرناک ڈاکو بننے کارجحان پایا جاتا ہے تو کیا اسے حالت جنین میں ہی ختم کرنا جائز ہوگا ؟ یہ تو وقوعہ جرم بلکہ ارادہ جرم سے بھی پہلے سزا دینے والی بات ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسے جینز رکھنے والا شخص اپنی شعوری کوشش سے اصلاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں کر سکتا اور اس سے جرم سرزد ہو جائے جو ایک لحاظ سے بے اختیاری والی بات ہے تو کیا وہ مستوجب سزا ہوگا یا نہیں یا کم از کم نرم سزا کا حق دار نہیں ہوگا۔اگر ایسا تسلیم کر لیا جائے تو دنیا کے قوانین کی حد تک تو جزا سزا کا تصور ہی درہم برہم ہو جائے گا۔معلوم ہوتا ہے کہ اول تو فطرت انسانی ابتدا صحیح یا نیوٹرل ہی تھی لیکن ماں باپ ماحول اور غذا وغیرہ جو پشت ہا پشت چلتے ہیں انسان کو خراب رجحانات عطا کر دیتے ہیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ ہر انسان کی فطرت ہی ایسے واقع ہوئی ہے کہ اس میں اچھے برے رجحانات ومیلانات پیدائشی طور پر